کون مسلمان اور کون کافر ہے؟

International speaker on Islam, Zakir Naik during a speech at the Azam Campus in Pune, October 19, 2008.

محمد غزالی خان

شاید بہت سے دوستوں کو یہ بات نا گوار لگے مگر حقیقت یہ ہے کہ ذاکرنائک صاحب کی تقاریر میں ادا کئے جانے والے بہت سے جملے قابل اعتراض ہوتے ہیں جن سے بلا وجہ غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ان وجوہات کی بنا پر ان کی تقاریر پہلے بھی مختلف حلقوں میں اور سوشل میڈیا پر اعتراضات اور تنقید کا نشانہ بن چکی ہیں۔بنگلہ دیش میں ہونے والے تازہ واقعہ کے تعلق سے تو لوگوں کو پرانے حساب چکانے کا محض ایک بہانہ مل گیا ہے ۔یہاں پر اس بات کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ ذاکر نائک کے اسلوب اورکسی قدر بے احتیاط گفتگو پر تنقید کرنے والے تمام لوگ ان کے مخالف نہیں ہیں۔ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کا خیال ہے کہ فقہی مسائل، سیاست ، تاریخ اورہر میدان میں طبع آزمائی کرنے کے بجائے اگر ذاکر نائک صاحب اپنا دائرہ کار صرف مذاہب کے تقابلی مطالعے تک ہی محدود رکھتے تو شاید وہ اینے استاد احمد دیدات صاحب سے زیادہ مقبول ہوتے اور مسلمانوں کے ہیرو بن جاتے ۔ بہرصورت ان کی تقاریر کی بنیاد پر نہ تو ان کے خلاف کفر کے فتویٰ کا جواز پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ان پر دہشت گردی پھیلانے کا الزام ثابت کیا جا سکتا ہے۔

جہاں ایک طرف میڈیا نے رپورٹنگ چھوڑ کر عدالت کا کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے اور ذاکر نائک کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، ہندوتوا کے علمبرداروں نے اپنے آپ کوحب الوطنی اور وطن دشمنی کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا مجاز ٹھہرالیا ہے وہیں بہت سے مسلمانوں نے بھی اﷲ کا قانون اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کے پروانے جاری کرنا شروع کر دےئے ہیں۔ہندوستان میں اس وقت یہ کارنامہ شیعہ عالم مولانا یوسف عباس صاحب نے انجام دیا ہے۔

مولانا نے ذاکر نائک کو قابل گردن زنی قرار دیا ہے اوران کا سر قلم کر کے موصوف کی خدمت میں پیش کرنے والے کے لئے 15 لاکھ روپیہ کے انعام کا اعلان بھی کر ڈالا ہے۔ ویسے تو ایک دوسرے کو کافر بنانے کے کام میں تمام مسالک کے علما ء شامل ہیں مگر اس وقت لفظ ’’تکفیری‘‘ سب سے زیادہ شیعہ علماء کی جانب سے، بالخصوص ایرانی میڈیا میں، داعش کے لئے مستقل ، مگر بجا طور، پر استعما ل کیا جا رہا ہے۔ یہاں پر داعش زیربحث نہیں ہے ، نہ اس کے انسانیت سوز جرائم کے بارے میں کوئی شبہ ہے اورنہ ان کا دفاع ہمارا مقصود ہے۔ البتہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مسلمانوں میں کون سا مسلک ایسا ہے جو تکفیری نہیں ہے۔ اور پھر شیعہ علماء اور ذاکرین تو یہ کام صدیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں یہاں تک کہ خلفہ راشدین اور زوجہ رسولﷺ اور ام المومنین بھی ان کے فتووں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اب توثبوت کیلئے کسی کو لائبریریوں میں کتابیں کہنگا لنے کی بھی ضرورت نہیں۔ یوٹیوب نے یہ کام بہت آسان کردیا ہے جس پر ہر مسلک کے عالم کی (پتہ نہیں ایسی غلیظ زبان استعمال کرنے اور اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کو عالم کہنا جائز بھی ہے یا نہیں) گمراہ کن تقریریں موجود ہیں۔ پتہ نہیں ان میں کو ن مسلمان ہے اور کون نہیں۔

اﷲ اور اس کے رسول ﷺکی تعلیم کے مطابق تو وحدت، رسالت، آسمانی کتب اور اسلامی ارکان پر یقین رکھنے والا ہر شخص مسلمان ہے۔ اور احادیث میں تو یہاں تک ہے کہ جس شخص نے ایک مرتبہ لا اِلہ الا اﷲ کہہ دیا اس پر جہنم کی آگ حرام ہو گئی۔ مگر پھر بھی تقریباً ہرمسلک کے علما ء نے مسلمان کی تعریف اپنے اپنے زاویے سے مرتب کی ہوئی ہے اور کسی کو مومن یا کافر قرار دینے کی بھی ان کی اپنی ہی دلیلیں ہیں۔

محسن انسانیت ﷺ نے تو ملاقات کے لئے آنے والے غیر مسلم وفود کو مسجد نبوی میں خوش آمدید کہا اور وہیں ان کی ضیافت بھی کی ۔ مگراس کے بعد کبھی یہ کہہ کر مسجد کو نہ دھویا کہ کفار کے مسجد میں داخلے کی وجہ سے وہ ناپاک ہو گئی ہے۔ مگر یہاں توہم مسلک (حنفی) لوگوں کے نماز ادا کرنے کے بعد مسجدکی نجاست اسے دھو کر دور کی جاتی ہے۔ کچھ مساجد کے باہر تو نوٹس چسپاں ہیں جن میں تاکید کی گئی ہے کہ فلاں فلاں مسلک کے لوگ مسجد میں نہ آئیں۔ کاش یہ لوگ قرآن کی اس آیت پر بھی غور کر لیتے ، ’’اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اﷲ کی مسجدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی ، تو ڈرتے ہوئے جائیں۔ ان کے لئے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔‘‘ (قرآن، ابقرہ، (2:114

آپ ﷺ نے تو اس شخص کی نماز ادا کرنے سے بھی پرہیز نہ کیا جس کی منافقت سب پر عیاں تھی مگر یہاں صرف اس بنیادپر نکاح فسق کردےئے جاتے ہیں کہ نماز جنازہ دوسرے مسلک کے امام کو پڑھانے دی گئی۔ دور رسالت ﷺ سے ہی مسلمان دنیا بھر میں پھیلنے شروع ہو گئے تھے اور جہاں ان کی طبعی موت یا شہادت واقع ہوئی وہیں سپرد خاک کردئے گئے۔ مگر یہاں تو عالم یہ ہے کہ ایک مسلک کا مردہ دوسرے مسلک کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جا سکتا۔

امت کے باہمی اختلافات کی بنیاد صرف فقہی مسائل ہی نہیں ہیں بلکہ تاریخ پر اندھا یقین اور اس کی بنیاد پر کسی کو مومن یا کافر قرار دینا بھی ہے۔ امت کے ایک بڑے طبقے نے تاریخ کے چند نہایت تکلیف دہ واقعات پر کسی کی رائے کوکفر اورایمان کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ آج جبکہ ہم چھوٹے بڑے واقعات کا کوریج اپنے ٹی وی اور کمپیوٹر اسکرینز پر دیکھنے کے باوجود اس بات کی قسم نہیں کھا سکتے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ تصویر کا صحیح رخ ہے مگر، 1400 سال پرانے واقعات کے بارے میں ہر شخص کا رویہ ایسا ہے جیسے کہ وہ ان واقعات کا عینی شاہد ہو۔تاریخ پر اس اندھے یقین کی وجہ سے جو شدت کچھ لوگوں نے اپنائی ہوئی ہے اگر ان کو اس بات پر اصرار ہے کہ کچھ تاریخی واقعات کی بنیاد پر وہ کسی کے کافریا مومن ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تو پھر کم از کم انہیں داعش پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ ان کے اور داعش کے رویے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ داعش کو بھی اس بات کا زعم ہے کہ جو کچھ وہ سمجھتے ہیں وہی حق ہے اور اس حق کی بنیاد پر وہ کسی کے کفر اور ایمان کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں میں اور داعش میں فرق صرف اتنا رہ جاتا ہے کہ داعش ایک قدم اور آگے بڑھ کر اپنے عقیدے پر عمل بھی کر ڈالتی ہے۔

بہر حال کچھ لوگوں کے لئے تاریخ کا وہ رخ جس کے بارے میں انہیں بچپن سے بتایا جاتا رہا ہے تقریباً عقیدے کا حصہ بن گیاہے اور کسی کو اس کے موقف سے ہٹانا تقریباً نا ممکن ہے۔ مگر ایک بات جو ہر ذی شعور مسلمان کو سمجھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ نہ کسی کو ان واقعات کی حقیقت سے انکار ہے اور نہ کوئی مسلمان نعوذبااﷲ آل رسولﷺ سے بغض رکھ سکتا ہے، جیسا کہ عام طور پر و پیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بدقسمت اس گناہ کا مرتکب ہے تو اﷲتعالیٰ اسے عقل دے اور توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کوئی بھی شخص جس میں ایمان کی تھوڑی سی بھی رمق باقی ہے ان ہستیوں کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھ سکتا جن پر وہ دن میں پانچ مرتبہ درود بھیجتاہو۔ بہر حال اس وقت ایک طرف ایک داعی دین(ذاکر نائک) ہے اور دوسری طرف دشمنان اسلام۔ اب لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ وہ کس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔‘‘ (قرآن، النسا، (4:134

کہتے ہیں کہ عراق پر ہلاکو کے حملے کے وقت وہاں کے علماء جس مسئلے پر شدت کے ساتھ بحث میں الجھے ہوئے تھے وہ یہ تھا کہ آیا کوّا حرام ہے یا حلال ۔ اس وقت ہم ہندوستانی مسلمانوں کی حالت اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ذاکر نائک کی آڑ میں اصل نشانہ مسلمان اور اسلام ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ امت مسلمہ کو معاملہ فہمی کی دولت اور ایماندارانا خود احتسابی کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: