کیا بی جے پی دوسری جماعتوں جیسی ایک جماعت ہے؟


محمد غزالی خان

اچانک کسی صدمے یا شدید نوعیت کے حالات سے دوچار ہونے کے باعث وقتی طور پر حواس خطا ہو جانا اور دماغ ماؤف ہوجانا ایک قابل فہم کیفیت ہے۔ 2014 میں نریندر مودی کا وزیر اعظم بننا ہی مسلمانان ہند کیلئے کسی سانحے سے کم نہیں تھاکہ یوپی اسمبلی کے نتائج نے تو اچھوں اچھوں کے ہوش اڑادئے۔ جو کیفیت آزمائش کی اس گھڑی میں سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آرہی ہے وہ نہایت تشویش ناک ہے۔ کسی سانحے کا اتنا زیادہ اثر لینا کہ اعصاب ہی جواب دے جائیں نہایت خطرناک علامت ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کیفیت کی شکار مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہو چکی ہے۔ کوئی مشورہ دے رہا ہے کہ مسلمانوں کو سیاست سے علیحدگی اختیار کر کے اس بات کی جنگ ہندوؤں کے لڑنے کیلئے چھوڑ دی جائے کہ انہیں کس قسم کا ہندوستان چاہئے۔ کوئی تجویزدے رہا ہے کہ مسلمانوں کو بی جے پی کو بھی دوسری پارٹیوں کی طرح ہی سمجھنا چاہئے اور اب اس کیلئے مثبت سوچ پیدا کرنی چاہئے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ان خیالات کا اظہار تجربہ کار سیاست دانوں سے لیکر کہنہ مشق کالم نگار اورمعتبر علماء تک تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کیلئے مثبت سوچ یا رضاکارانہ طور پر ووٹ دینے کے اپنے دستوری حق سے دسبتردار ہونے کی تجاویز تو کچھ دانشوروں کی جانب سے 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ہی آنی شروع ہو گئی تھیں۔ 

کاش ملت کے یہ دانشوران ، سیاست داں اور علما ء اس قسم کے مشورے دینے اور ایسی آرا ء کے اظہار سے پہلے ایک مرتبہ سنجیدگی کے ساتھ ان تجاویز کے خطرناک پہلوؤں پر بھی غور فرمالیتے۔ ہندوستان جیسے جمہوری ، کثیر انسلی اور کثیرالمذاہب ملک میں، جہاں آپ اقلیت میں ہوں، ایمان و یقین، صحیح حکمت عملی اور ووٹ ہی تو آپ کے ہتھیار ہیں۔ موحودہ حالات سے دل برداشتہ ہو کر ملت میں ایسی منفی سوچ پیدا کرنے کو اجتماعی خودکشی اور ہتھیار ڈال کر غلامی قبول کرنے کی ترغیب دینے کے سوااور کیا کہا جا سکتا ہے؟ ایسی سوچ کو فروغ دے کر نہ یہ کہ آپ خود اﷲ کی مدد سے مایوس ہو رہے ہیں بلکہ پوری ملت کو مایوسی کی گہری دلدل میں ڈھکیلنے کے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ذرا سوچئے کہ اپنے آپ کوحق رائے دہی سے رضاکارانہ طور پر محروم کر کے کیا آپ اپنے آپ کو برما کے مسلمانوں والی صورتحال میں مبتلا کرنے کی تیاری نہیں کر رہے ہیں؟ خدارا عقل سے کام لیجئے۔ اپنے سیاسی، مسلکی اور دیگر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کوئی راہ نکالنے کی تدبیر کیجئے ۔ اور اگر آپ میں یہ کرنے کی سکت نہیں رہ گئی ہے تو بہتر ہو گا کہ ملت کو اﷲ کے سپرد کر کے خاموشی کے ساتھ گھر بیٹھ جائیں اور اﷲ تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ ہم اپنی سی کوشش کر چکے اب حالات ہمارے قابو سے باہر ہیں اب تو نئی نسل میں سے قوم کاکوئی ایسا مسیحا پیدا کر جس میں مومنانہ صفات ، حکیمانہ تدبر اور مجاہدانہ جراء ت ہو۔مگر کم از کم اجتماہی خودکشی کا مشورہ تو نہ دیجئے۔

جہاں تک بی جے کے تئیں مثبت رویہ پیدا کرنے اوراس سے یہ توقع کرنے کی بات ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق اپنی پالیسی اور نظریہ تبدیل کر لے گی تو یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کسی سے اس کے مذہب تبدیل کرنے کی امید کی جائے۔ بھلا جس تنظیم کاوجود ہی مسلم منافرت اور اسلام دشمنی پر ہو ، جس کا مقصدہی ایسی ہندو ریاست کا قیام ہوجہاں آپ کی حیثیت غلام سے زیادہ نہ ہو آپ اس سے یہ کیسے توقع کر رہے ہیں کہ وہ کبھی آپ کیلئے نرم گوشہ اختیار کرے گی؟ گجرات میں نریندر مودی کی وزارت اعلیٰ سے لے کر موصوف کے وزیر اعظم بننے اور یوپی میں یوگی ادتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز کرنے تک ہر بات میں اسلام اور مسلم دشمنی شامل ہے۔ آخر کس بنیاد پر آپ اس فسطائی جماعت کی گراوٹ اور یوگی ادتیہ ناتھ کی خود اپنی ذہریلی تقریروں اوراس کی موجودگی میں ہندو نوجوانوں کو اس بات کی ترغیب دےئے جانے کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ انہیں قبروں سے مسلمان عورتوں کی لاشیں نکال کر ان کے ساتھ جنسی حوس کی تسکین کرنی چاہئے؟ یہ تقریر یو ٹیوب پر موجود ہے کسی صاحب کو شبہ ہو تو خود دیکھ سکتے ہیں۔

گجرات میں کئی سال سے مسلسل بی جے پی کی حکومت ، پارلیمانی انتخابات میں کامیابی اوریو پی میں زبردست جیت نے ان کے عزائم اور بلند کردئے ہیں۔ اسی کی بنیاد پر وہ 2019 میں پارلیمانی انتخابات میں مزید اکثریت کے ساتھ کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بی جے پی اپنے حامیوں سے یہی بتاتی آرہی ہے ، اور اس بات میں صداقت بھی ہے، کہ جب تک پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس کوپوری اکثریت حاصل نہیں ہو جاتی اس وقت تک نہ تو مجوزہ رام مندر بن پائے گا اور نہ ہی ہندوتوا کے دوسرے ایجنڈے پایہ تکمیل تک پہنچ پائیں گے ۔ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے یا احمقانہ لائحہ عمل کے نتیجے میں خدا نہ خواستہ 2019 میں اگر دونوں ایوانوں میں بی جے پی کی اکثریت آگئی تو ظاہر ہے کہ نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ اور لال کرشن اڈوانی کی صدارت میں رام مندر کے قیام، یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ ، علیگڑھ اور جامعہ ملیہ کے اقلیتی کردار کے خاتمے اور دفعہ 370 کے تحت کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے لے کر آئین میں تبدیلی کر کے ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دئیے جانے سمیت کوئی دنیاوی طاقت انہیں ان میں سے کسی ایک بات سے بھی نہیں روک سکے گی۔ اﷲ ہی کے منصوبے میں کچھ اور ہو تو وہ الگ بات ہے۔ 

میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ دوسری جماعتیں بہت پاکباز اور مسلمانوں کے تئیں مخلص ہیں۔ انہیں بھی بار بار دیکھ لیا ، بی جے پی کے بارے میں پڑھ بھی رکھا تھا اور اسے پرکھ بھی لیا ، اپنے انتشار سے پیدا ہونے والے نقصان کو بھی دیکھ لیا۔ اب خدارا ان سب باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی پر غور کیجئے۔ بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں بی جے پی پسند ہو یا نہ ہو اب اس کی حکومت ہے اور مختلف مسائل پر اس کے ساتھ بات کرنا ہماری مجبوری ہے۔ لہٰذا س سے پہلے کہ مسلمانوں کا سودا کرنے کیلئے بے تاب عناصر خالی جگہ کو پر کریں بہتر ہو گا کہ سرکردہ مسلم تنظیمیں اس مسئلے پر جلد از جلد کوئی اجتماعی فیصلہ کر کے کوئی لائحہ عمل مرتب کرلیں۔

کیونکہ ہماری یاد داشت بہت کمزور ہے اسلئے ضروری ہے کہ بی جے پی کی اصلیت سے بھی قارئین کو ایک مرتبہ پھر آگاہ کر دیا جائے۔ 

یہ بات ذہن میں رکھی جانی چاہئے کہ سنگھ پریوار دھوکے اور جھوٹ کا تو ماہرہے ہی مگر اس کے نام نہاد ’’گجرات کے تجربے‘‘ نے اس کی شاطرانہ صلاحیتوں کو اور زیادہ نکھا ردیا ہے۔ وہ مسلم کش فسادات اور مسلمانوں کے خلاف کھلے عام نفرت پھیلانے کو اقتدار تک پہنچنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اقتدار میں آتے ہی تشدد اور نفرت انگیزی کی اس پالیسی کی جگہ ہندوتوا کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کی مہم لے لیتی ہے۔ اقتدار میں آتے ہی مسلم کش فسادات کی جگہ ہندواحیا ء کا نفاذ لے لیتا ہے۔گجرات اور جن ریاستوں میں بی جے پی ماضی میں حکومت کر چکی اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ 

ہندوتوا کے جس ایجنڈ ے پر عمل کرتے ہوئے زعفرانی جنگجوؤں نے مختلف اوقات میں حکومتی سطح پر جو اقدامات کئے ہیں اور جن باتوں کا اطلاق کیا ہے ان کی چند ایک مثالیں یہ ہیں۔ 

اتر پردیش میں1992 میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے دور حکومت میں بابری مسجد شہید کی گئی۔ کلیان سنگھ نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ہندو احیاء پرستی کے دیگر اقدامات کے علاوہ 1997 میں سرکاری اسکولوں میں سرسوتی پوجا اور وندے ماترم کا گایا جانا ضروری قرار دیا۔ اس کے بعد سے آج اس روایت عمل کیا جا رہا ہے جسے کوئی دوسری حکومت ختم نہیں کر پائی۔

مسلمانوں کو ہندو پوجا کرنے کے لئے مجبور کیا جانا اسکولوں اور کالجوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب دفاتر تک پہنچ چکا ہے۔ ایک دوست ، جو ایک اعلیٰ عہدے پر سرکاری ملازم ہیں، کے مطابق ’’میں نے راسخ العقیدہ مسلمانوں کو ہندو پوجا کرنے پر مجبور پایا ہے ۔ اس میں ایک صاحب کو جو باریش ہیں اور ایک شعبے کے صدر ہیں دیا جلا کر اور ناریل پھوڑ کر افتتاحی تقاریب کی شروعات کرتے دیکھاہے۔ سیکولرزم محض نام کیلئے ہے۔ آر ایس ایس اور ہندوتوا کا ایجنڈا آہستہ آہستہ اسکولوں اور دفاتر میں داخل ہو رہا ہے۔ مسلم قیادت غائب ہے۔ مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کی اسلامی تعلیم کے بارے میں سوچ کر نہایت تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ 

2000 میں بی جے پی کے وزیراعلیٰ رام پرکاش گپتا نے صوبے بھر میں سیاسی سادھوؤں کی مدد سے فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دیا، دہشت و خوف کا ماحول پیدا کیا اورUP Hindu Religious Places (prevention of misuse) Act 1962کی جگہ UP Religious Places Bill لانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اقلیتوں ڈپٹی کمشنر کی اجازت کے بغیر عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات پر معمولی سی ترمیم و تعمیر کرنا بھی محال ہو جاتا۔ 

2001 میں ایل کے اڈوانی کی سربراہی میں وزرا کے ایک گروپ نے Reforming the National Security System کے عنوان سے ایک رپورٹ مرتب کی ۔ جس میں مسلمانان ہند کو سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے بعد یوپی حکومت نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں ایس ایس ایو کو ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں مسلمان اور سکھ خاندانوں کی فہرستیں تیار کریں اور باہر سے آنے والوں کی تفصیلات درج کریں اور ان پر سخت نظریں رکھیں۔ 

2003 میں جب بی جے پی پوری اکثریت میں نہیں تھی تو اٹل بہاری واجپائی کی این ڈی اے حکومت نے آر ایس ایس کے قائد وی ڈی سروارکر کو پارلیمنٹ جیسی جگہ پر اعزاز سے نوازا اوراس انتہاپسند اور مسلم دشمن شخصیت کی تصویر سینٹرل ہال میں آویزاں کر دی اور سیکولر سیاست دان محض احتجاج کرتے رہ گئے۔

کوئی نریندر مودی سے کتنی بھی نفرت کرے مگر اس کی چالاکی اور عیاری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ شخص بخوبی جانتا ہے کہ کب ہندو کارڈ کھیلنا چاہئے اور کب سیکولرزم کا لبادہ اوڑھنا چاہئے۔ جب فرقہ پرستی کو فروغ دینا اس کے مفاد میں تھا تو اس نے سابر متی ایکسپریس میں مرنے والوں کی لاشوں کا جلوس نکلوانے دیا، اپنے پیادوں کو مسلمانوں پر بد ترین مظالم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دی جن کا سابر متی ایکسپریس کے ایک ڈبے کی آگ زنی سے دور دور کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ البتہ جب اس نے حالات کو قابو کرنا چاہا تو ان خونخوار فسادات کے بعد مخدوش اور آتش گیر ماحول میں بھی اکشے دھام پر حملے کے بعد ایک معمولی سا واقعہ نہ ہونے دیا۔ 

جب تک وہ گجرات کی وزارت عظمیٰ پر قانع رہا مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتا رہا، ماحول کو مکدر کرتا رہا اور تین بار گجرات کا وزیر اعلیٰ متتخب ہونے میں کامیاب ہوتا رہا۔ مگر جیسے ہی بی جے کی قیادت نے اسے وزارت عظمیٰ کا خواب دکھایا ، جو مسلمانوں کی مدد کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا تو اس نے سیکولرزم کو گلے لگالیا۔ 2002 میں اس نے مسلمانان گجرات کے قتل عام کو ایک عمل کا رد عمل کہہ کر جائز قرار دیا تھا اور اپنے کارناموں میں سے ایک کو یہ کہ کر فخریہ بیان کیا تھا ’’ہم نرمدا کا پانی شرمن میں لائے ہیں مگر کانگریس ہوتی تویہ کام رمضان میں کرنا چاہتی۔‘‘ البتہ 2014 کی انتخابی ریلی میں وہ بہار میں اس بات پر افسوس کر رہا تھا کہ بہار کے مسلمان اتنے غریب ہیں کہ حج کیلئے نہیں جا پاتے۔

واضح رہے کہ سنگھ پریوار نے انتہا پسندی پر سیکولرزم کا لبادہ اوڑھ کر مسلم دوستی کا پہلا ڈرامہ 1977 میں ایمرجنسی کے بعد ہونے والے انتخابا ت میں کیا تھا جس کے بعد اس کے ارکان بڑے بڑے عہدوں پر فائض ہو گئے اور اڈوانی جیسے شخص کے ہاتھوں وزارت اطلاعات و نشریات لگی۔ سنگھ پریوار نے اس دور کو ہندوتوا کے اپنے ایجنڈے کے اطلاق کیلئے بھر پور طریقے سے استعمال کیا جس کا اثر بی جے پی کی نام نہاد رام جنم بھومی تحریک اور اڈوانی کی رتھ یاتر ا میں ریٹائرڈ اعلیٰ فسران، پولیس اور فوج کے ریٹائرڈ ملازمین کی شمولیت کی شکل میں دیکھنے کو ملی۔ بابری مسجد کی شہادت میں ریٹائرڈ فوجی اہل کاروں کی شمولیت کو حال ہی میں کوبرا پوسٹ نے افشاں کیا ہے۔ نیز ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ستیے پال سنگھ اور سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ کی بی جے پی میں شمولیت اس ذہر پر مکل اور افسوسناک تبصرہ ہے جو سنگھ پریوار نے پولس ، فوج اور سرکاری دفاتر میں پھیلا دیا ہے۔ 

جو لوگ اڈوانی کی دہشت گردی کو بھول چکے ہیں یا اس وقت اتنے کم عمر تھے کہ انہیں وہ دور یاد نہ ہو مشہور برطانوی صحافی اور قلم کار ولیم ڈالرمپل نے ہفتہ وار جریدے اسپیکٹیٹر کی 8 دسمبر 1990 کی اشاعت میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا:

’’1929 کے موسم سرما میںیہ جرمنی کی وائمرریپبلک کی ناکامی کے ساتھ تباہ کُن افراط زرتھا جس کی وجہ سے نیشنل سوشلسٹس پارٹی کا عروج ہوا۔ 1990 کے موسم سرما میں اسی طرح کے واقعات نے ہندو بنیاد پرست پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (یا بی جے پی)کو مقبولیت دے دی ہے۔ 1984 کے انتخابات میں بی جے پی کو محض دو نشستیں مل پائی تھیں۔ گزشتہ سال اس نے 88نشستیں جیت لیں۔ جب چندر شیکھر کی بھان متی کا کنبہ والی حکومت گرے گی(اور کم ہی لوگوں کو 1991 کے موسم بہارسے آگے تک اس کے بچنے کی امید ہے) تو اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی ہندوستان میں بی جے پی سب کو بہا کر لے جا ئے گی ۔۔۔ بی جے پی کیلئے اقتدار تک کا راستہ صاف کرنے کے پیچھے جو شخص ہے اور اس کا نام ایل کے اڈوانی ہے۔۔۔بی جے پی کے اس انقلاب سے پہلے پر اسرار طریقے سے ہزاروں اشتعال انگیزکیسیٹس تقسیم ہوئے تھے۔۔۔ان کیسیٹس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف کھلے عام تشدد کو فروغ دیا گیا ہے۔ ’ہمارا مادر وطن رضاکاروں کو پکار رہا ہے ، ان جاں بازوں کو پکا ررہا ہے جوقوم کے دشمنوں ] یعنی مسلمانوں[ کو ذبح کر کے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں‘ یہ ایک ایسی کیسیٹ میں کہا گیا ہے جو مجھے اپنے گھر کے نزدیک بازارسے ملا ہے ، ’ہم بابر ] سلطنت مغلیہ کا بانی[ کی اولاد وں کے ہاتھوں مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر اس کیلئے سڑکوں پر خون بہانے کی ضرورت ہے توپھر ایک مرتبہ سڑکوں پر خون بہا ہی دیا جائے۔۔۔دہلی کے ڈرائنگ رومز میں فسطائیت ایک فیشن ایبل شے بن گئی ہے، تعلیم یافتہ لوگ بلا جھجک آپ سے کہیں گے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کی تادیب کرہی دی جائے اور یہ کہ وہ گندے اور جنونی ہوتے ہیں، وہ خرگوش کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔جہاں ایک طرف زبانی جمع خرچ کرنے والے صرف باتیں کررہے ہیں تو دوسرے لوگ براہ راست اس پر عمل کررہے ہیں۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں پرانی دہلی میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہند و اور مسلمان یہ کام سڑکوں پرانجام دے رہے ہیں‘‘ 

وزیر اعظم بننے کے بعد جب نریندر مودی نے ،’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ دیا تو مسلمانوں کو عام طور پر اس دعوے پر یقین نہیں آیا۔ ان کے سامنے موصوف کا سنگھی پس منظر ، گجرات میں مسلمانوں کے 

گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی بین الاقوامی سطح پر مذمت، امریکہ، جرمنی اوربرطانیہ کا نریندر مودی کو ویزا دینے سے انکار اور اندورن ملک غیر ہندوتوا عوام کی سخت مخالفت نے مودی اور ہندوتوا عناصر کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ تشدد سے انہیں زیادہ عرصے تک فائدہ نہیں ہو گا۔ خدا نہ خواستہ اگر یہ شخص مرکز میں اقتدار پر آگیا تو ظاہر ہے کہ بظاہر وہ سیکولرزم کا سب سے بڑا علمبردار، صلا ح جو اور نیک طبیعت شخص بن کر سامنے آئے گا۔ البتہ سیکولزم کی آڑ میں ہندوتوا کے ایجنڈے پر پوری تنندہی سے کام کرے گا۔ مودی نے اپنے گجرات کے تجربے ، اپنے پیش رو اڈوانی اور واجپائی کی مثالوں اور کانگریس کے اس نرم ہندوتوا جس پر 1947 سے مسلسل عمل کیا جا رہا ہے، سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس طرح سخت گیر ہندوتوا پر نرم ہندوتوا کی مٹھاس اورترقی و اصلاحات کی پر فریب کشش گجرات اور مظفر نگر کے فسادات سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گی جس کے اثرات مستقبل میں لمبے عرصے تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.