کانگریس، بی جے پی اور مسلمان: ایک تاریخی پس منظر

Indian Muslims
محمد غزالی خان

لوک سبھا الیکشن 2004 سے پہلے ہی مسلمانوں کے درمیان یہ بحث بڑی شدت کے ساتھ شروع ہو گئی تھی کہ آیا سیکولر جماعتیں واقعی سیکولر ہیں۔ ہندوتوا تنظیموں کی مسلسل دہشت گردانہ سرگرمیوں، مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی مہم ، مہاراشٹر ، بہار اور اب یوپی اسمبلی کے انتخابات میں اتحادالمسلمین کی طبع آزمائی کی تیاری سے اب یہ بحث، خاص طور پر سوشل میڈیا پر، جاری ہے کہ آیا مسلمانوں کی ایک سیاسی جماعت کی ضرورت ہے اور کیا مسلمانوں کی علیحدہ جماعت ان کے سیاسی اور دیگر مسائل کا حل ہے؟

image
پنڈٹ جواہر لال نہرو لارڈ ہیسٹنگز اسمے، لارڈ ماؤنبیٹن اور محمد علی جناح

مسلمانوں کی سیاسی جماعت کی ضرورت یا اس کی افادیت ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر نہایت سنجیدگی سے غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ بہر حال کیونکہ اس بحث کا اصل محرک ہندوتوا کی شدت میں اضافہ اور 2014 کے انتحابات میں بی جے پی کی بہت بڑی کامیابی ہے اس لئے کسی بھی ایسی بحث سے پہلے ہندوتواتنظیموں کی سرگرمیوں میں شدت ، ان کی کامیابی کی وجوہات اور کانگریس کے سیکولرزم پر ایک نظر ڈالنا نہایت ضروری ہے جو 50 سال سے زیادہ کے عرصے تک ملک میں سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے اور مسلمانوں کے ووٹوں پر جس کی اجارہ داری رہی ہے۔

نصف صدی تک بغیر کسی چیلنج کے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد 80 کی دہائی میں کانگریس کی گرفت کمزور پڑنے لگی اور بی جے پی مضبوط ہونے لگی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ بی جے پی کسی نئے انقلابی منشور کے ساتھ عوام کے سامنے آئی تھی بلکہ اس کی وجہ مسلمانوں کے خلاف اس کا جھوٹا پروپیگنڈا اور غیر مسلم عوام میں اس زہر کو فروخت کرنے میں اس کی کامیاب حکمت عملی تھی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ نفرت سے بھر پور اپنے اس منصوبے کو مقبول بنانے میں اسے کامیابی کیسے حاصل ہوئی؟

اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ایک ایسی جماعت جسے 1951 سے اس کے پچھلے جنم سے ، جب اس کا نام بھاتیہ جن سنگھ تھا، ہندو رائے دہندگان کی بھاری اکثریت مسلسل مسترد کرتی چلی آ رہی تھی، 1996 میں اس کا 13 دن کی حکومت بناپانا،پھر 1998-99 میں اس این ڈی کی حکومت میں اس کی شرکت اور تیسری مربتہ 1999-2004 میں پھر حکومت بناپانا ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں ایک فرقہ پرست جماعت کیلئے بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس کے بعد کے سالوں میں ایسا محسو س ہوا کہ بی جے پی پھر کمزور پڑ رہی ہے مگر 2014 کے انتحابات میں اس کی بڑی کامیابی اور مرکز میں واحد جماعت کی حیثیت کے ساتھ ساتھ کچھ ریاستوں میں اس کی حکومت آجانے سے ملک کے سیاسی کلچر میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ حالانکہ سیاسی مبصرین بہار اسمبلی کے انتخابی نتائج اور وہاں بی جے پی کی شرمناک شکست سے اندازہ لگا رہے ہیں کہ اس کا اثر بی جے پی کی بڑھتی ہوئی فسطائیت اور مقبولیت پر پڑے گا مگر شاید ابھی اس بارے میں ایسی رائے قائم کرنا جلد بازی کے مترادف ہو گا۔

نام نہاد رتھ یاترا کے دوران اڈوانی اور مودی

بہر حال 80 کی دہائی میں بی جے پی کی کامیابی کی وجوہات بہت دلچسپ ہیں ۔ کیونکہ تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے پر تناؤ ماحول میں جن سنگھ جیسی فرقہ پرست جماعت کیلئے 50 کی دہائی میں فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنا اور انتحابی کامیابی حاصل کرنا بہت آسان تھا کیونکہ آج کی طرح اس وقت تو یہ تاثر اور بھی زیادہ شدید تھا کہ صرف مسلمان تقسیم وطن کے ذمہ دار تھے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ، اور جیسا کہ 1970 اور 1983 میں خفیہ اور سرکاری دستاویزات (secret and official documents) کی اشاعت (Transfer of Power 1942-47) ، جو اس وقت تک لندن کی انڈیاآفس کی تحویل میں تھے، کے بعد ان واقعات کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ ان دستاویزات کی روشنی میں گاندھی جی، پنڈت نہرو اور ولب بھائی پٹیل تقسیم کے اتنے ہی ذمہ دار تھے جتنا کہ محمد علی جناح۔ مولانا آزاد نے اپنی کتاب انڈیا ونز فری ڈم میں اس کی پوری تفصیلات دی ہیں۔ مولانا کے بقول (راقم الحروف کے پاس کتاب کا انگریزی نسخہ ہے لہٰذا یہاں پر ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے) ’’یہ بات ریکارڈ پر آجانا ضروری ہے کہ جو شخص ماؤنبیٹن کے منصوبے کا سب سے پہلے شکار ہوا وہ سردار پٹیل تھے۔شاید اس وقت تک پاکستان جناح کیلئے اپنی بات منوانے اور سودے بازی کا ایک بہانہ تھا۔ مگر پاکستان کی مانگ میں وہ حدود سے تجاوز کر گئے تھے۔ ان کی اس حرکت سے سردار پٹیل اس قدعاجز آگئے تھے کہ اب وہ تقسیم پر یقین کرنے لگے تھے۔۔۔ویسے بھی ماؤن بیٹن کے آنے سے پہلے بھی وہ 50% تقسیم کے حق میں تھے۔ ان کا یقین تھا کہ وہ مسلم لیگ کے ساتھ کام نہیں کر سکیں گے۔ وہ یہ بات کھل کر کہہ چکے تھے کہ اگر مسلم لیگ سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے تو اس کیلئے انہیں تقسیم بھی قبول ہو گی۔ شاید یہ کہنا نا مناسب نہ ہو گا کہ ولب بھائی پٹیل ہی تقسیم کے اصل معمار تھے۔‘‘

ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب جناح کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر بتایا جاتا تھا۔ اور یہ خطاب کسی اور نے نہیں سروجنی نائیڈو نے دیا تھا۔ 1910 میں جناح نے منٹو مارلے ریفارم کے تحت مسلمانوں کیلئے علیحدہ الیکٹوریٹ کی مذت کی تھی باوجود اس کے کہ اس سے انہیں ذاتی طور پر فائدہ ہوا تھا۔ انھوں نے گاندھی جی کو مشورہ دیاتھا کہ خلافت تحریک کاساتھ دے کر وہ مسلمانوں میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ نہ دیں اور گاندھی جی پر الزام لگایا تھا کہ ایسا کرنے سے انھوں نے صرف ہندوؤں اور مسلمانون کے درمیان ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں اور حتیٰ کہ باپ بیٹے میں بلکہ ہر ادارے میں اختلافات اور تقسیم پیدا کردی ہے۔

اس کا جواب گاندھی جی نے یہ دیا کہ (مولانا) محمد علی اورخود ان کیلئے خلافت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ محمد علی کے لئے یہ ایک مذہبی فریضہ ہے اور میرے لئے یہ اس لئے مذہبی فریضہ ہے کیونکہ ایساکرنے سے میں گائے کومسلمانوں کے چھوروں سے محفوظ کر سکتا ہوں۔ معروف صحافی مارک ٹیلی نے اپنی کتاب From Raj to Rajiv, (BBC Books. London 1988) مینو مسانی، جو 1945 میں قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے، کے حوالے سے لکھا ہے انھوں نے بتایا ’’۔۔۔نہرو سمیت اکثر لوگ بے صبرے ہو گئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مسلمان یہاں سے جلد از جلد رخصت ہوں تاکہ وہ اپنے گھر کے خود مالک ہوں۔نہرو اور جناح کی ذاتی انا متحدہ جمہوری ہندوستان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئی تھی۔‘‘

بہرحال مفاد پرستی نے اپنا رنگ دکھا یا اور ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ لوٹ مار، قتل و غارت گری اور زنا بالجبر کے واقعات کا بازار گرم ہو گیا۔ ان واقعات کے دس سال کے اندر اندر ہندوستان ایک سیکولر اور لبرل ریاست بننے میں کامیاب ہو گیا۔ ایک سیکولر آئین کااطلاق ہو گیا اور آزاد عدلیہ قائم ہو گئی۔1997 میں نہرو کی ابتدائی غلطیوں کے باوجود ان کے زیر قیادت کانگریس تکثیریت اور غیر فرقہ واریت کے اصولوں پر کاربند رہی۔ تاہم اس کی مرکزی قیادت کے سیکولرزم میں یقین کے باوجود 1947 ، یا اس سے پہلے پھیلائی گئی مذہبی منافرت سے نجات نہ پا ئی جا سکی۔ وقتاً فوقتاً فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے اور مسلمانوں کی حب الوطنی پر شبہات کو تقویت دی جاتی رہی۔ سرکاری اور نیم سرکاری ملازمتوں میں ان کے خلاف امتیاز برتا جا تا رہا۔ تاہم 80 اور 90 کی دہائی میں جو شدت مسلم دشمنی میں پھیلائی گئی وہ تمام پرانے ریکارڈز سے تجاوز کر گئی۔ برطانوی صحافی اور مصنف ولیم ڈالرمپل نے برطانوی جریدے اسپیکٹیٹر(8 دسمبر(1990 میں اس ماحول کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا تھا ’’1929 کے موسم سرما میں جرمنی کی وائمرری پبلک کی ناکامی اورشدید افراط زرکی وجہ سے نیشنل سوشلسٹ پارٹی کا عروج ہوا تھا۔ 1990 کے موسم سرما میں اسی طرح کے واقعات کے باعث ہندو بنیاد پرست پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (یا بی جے پی) مقبولیت پارہی ہے۔ 1984 کے انتخابات میں بی جے پی کو محض دو نشستیں مل پائی تھیں۔ گزشتہ سال اس نے 88نشستیں جیتی تھیں۔ جب چندر شیکھر کی بھان متی کے کنبے والی حکومت گرے گی(اور کم ہی لوگوں کو 1991 کے موسم بہار تک اس کے بچنے کی امید ہے) تو اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی ہندوستان میں بی جے پی سب کو بہا کر لے جا ئے گی ۔۔۔ بی جے پی کیلئے اقتدار تک کا راستہ صاف کرنے کے پیچھے جو شخص ہے اور اس کا نام ایل کے اڈوانی ہے۔۔۔بی جے پی کے اس انقلاب سے پہلے پر اسرار طریقے سے ہزاروں اشتعال انگیزکیسیٹس تقسیم ہوئے تھے۔۔۔ان کیسیٹس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف کھلے عام تشدد کو فروغ دیا گیا ہے۔ ’ہمارا مادر وطن رضاکاروں کو پکار رہا ہے ، ان شہیدوں کو پکا ررہا ہے جوقوم کے دشمنوں ] یعنی مسلمانوں[ کو ذبح کر کے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں‘ یہ اس کیسیٹ میں کہا گیا ہے جو مجھے اپنے گھر کے نزدیک بازارسے ملا ہے ، ’ہم بابر ] سلطنت مغلیہ کا بانی[ کی اولاد وں کے ہاتھوں مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر اس کیلئے سڑکوں پر خون بہانے کی ضرورت ہے توپھر ایک مرتبہ سڑکوں پر خون بہا ہی دیا جائے۔۔۔دہلی کے ڈرائنگ رومز میں فسطائیت ایک فیشن ایبل شے بن گئی ہے، تعلیم یافتہ لوگ بلا جھجک آپ سے کہیں گے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کی تادیب کرہی دی جائے اور یہ کہ وہ گندے اور جنونی ہوتے ہیں، وہ خرگوش کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔جہاں ایک طرف زبانی جمع خرچ کرنے والے صرف باتیں کررہے ہیں تو دوسرے لوگ براہ راست اس پر عمل کررہے ہیں۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں پرانی دہلی میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہند و اور مسلمان یہ کام سڑکوں پرانجام دے رہے ہیں‘‘

وہ کون سی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے فسطائی منشور اور نفرت سے بھر پورآر ایس ایس جیسی نتظیم کے سیاسی بازو کو ایسے ملک میں مقبولیت حاصل ہونے لگی جو اپنے سیکولرزم کیلئے مشہور تھا؟ وہ کیا محرکات تھے جن کی وجہ سے ہندوستانی عوام، جن کے ذہنوں سے تقسیم وطن کی تکلیف دہ یادیں ختم ہونے لگی تھیں ، اچانک بی جے پی کے پرو پیگنڈے کا شکار ہو گئے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے ان اسباب پر نظر ڈالنا ضروری ہو گا جن کی وجہ سے جن سنگھ وجود میں آئی اورجو اپنے دوسرے جنم میں 90 کی دہائی میں مسند اقتدار تک پہنچ گئی۔

آزادی کے بعد ملک کی باگ ڈورکانگریس کے ہاتھوں میں آئی۔ اس کی اعلیٰ قیادت نے مختلف الخیال لوگوں کو اپنے میں ضم کر لیا اور ان سے مفاہمت کر لی۔ 1947 میں اس کی قیادت میں تین قسم کی فکریں رکھنے والے لوگ موجود تھے۔پہلا گروہ ملک کو سیکولر آئین کے ساتھ سیکولر اور لبرل ملک بنانے کا خواہاں تھا۔ دوسرا گروہ اسے ایک سوشلسٹ ملک بنانا چاہتا تھا۔ اور تیسرا گروہ اسے ہندو روایات و اقدار والی ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہو ا تھا۔ کیونکہ کانگریس عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی ان کیلئے اب دو ہی راستے موجود تھے: (1)کانگریس میں رہتے ہوئے اس پر اپنا دباؤ بنائے رکھیں۔ (2) ایک نئی جماعت کی تشکیل دے کر اپنے آپ کو تنہا کر لیں۔ روایت پرستوں میں بھی شدید اختلافات موجود تھے۔ البتہ ان میں یہ بات مشترک تھی کہ وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے بجائے وہ سب ولب بھائی پٹیل کو اپنا قائد سمجھتے تھے۔ نہرو سیکولرزم پر یقین رکھتے تھے جبکہ پٹیل مسلمانوں کو شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ 6 جنوری 1948 کو انھوں نے لکھنؤ میں ایک جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ’’اگر مسلمانوں کو شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو انہیں اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ وہ بیک وقت دو گھوڑوں پر سوار نہیں ہو سکتے۔ جو ملک کے وفادار نہیں ہیں وہ یہاں زیادہ دن تک نہیں رہ پائیں گے کیونکہ ان کیلئے ماحول بہت گرم ہو جائے گا۔‘‘ (Hindu Nationalism and Indian Nationalism, Cambridge University Press, Cambridge 1990 بحوالہ ہندوستا ن ٹائمز 7 جنوری 1948 )

اگست 1950 کے آخر میں کانگریس کے قومی صدر کے انتخا ب پراقلیتوں سے متعلق مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہو گئے ۔ صدارت کے امید واروں میں ایک پرانے کانگریسی اور ہندو قوم پرست پرشوتم ڈاس ٹنڈن کا نام تھا۔ نہرو نے ان کے نام کی مخالف کی اور ان کے نام ایک خط میں وضاحت کی کہ’’بد قسمتی سے ہندوستان میں بہت سے لوگوں کے نزدیک آپ فرقہ پرستی اور ہندو احیاء پرستی کی علامت بن گئے ہیں۔ اب میرے ذہن میں یہ سوال آ رہا ہے کہ کیا کانگریس اس راہ پر جائے گی؟ ۔۔۔میں محسوس کرتا ہوں کہ اس انتخاب کے نتیجے میں ان بہت سی طاقتوں کو تقویت ملے گی جو میری نظر میں نقصان دہ ہیں۔لہٰذا میں مشکل میں بھی ہوں اور پریشان بھی۔‘‘

پٹیل نے ٹنڈن کے نام کی تائید کی۔ بہر حال نہرو کی مخالفت کے باوجود ٹنڈن انتحاب میں کامیاب ہو گئے۔ نہرو نے ٹنڈن کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا اور منت سماجت کر کے فیصلہ واپس لینے کیلئے انہیں مجبور کیا گیا۔ بعد میں ٹنڈن کو استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ 8 اپریل 1951 کو جب لیاقت علی خان اور پنڈت نہرو کے درمیان دونوں ممالک میں اقلیتوں سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تو معاملات اور بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ ہندو احیاء پرست اور ہندو مہا سبھا کے صدر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھر جی کو اس پر اتنا شدید اختلاف ہوا کہ وہ کابینہ سے مستعفی ہو گئے۔

ہندوؤں کی علیحدہ جماعت کا قیام
نسبتاً ایک اعتدال پسند شخص ہونے کے باوجود ڈاکٹر مکھر جی دہلی معاہدے سے اس قدر نالاں ہوئے کہ انھوں نے آر ایس ایس کے قائد ایم ایس گولوالکر کے سامنے ہندوؤں کی علیحدہ پارٹی بنانے کی تجویز رکھ دی۔ ان کا خیال تھا کہ اس معاہدے کی رو سے پاکستان کے ہندوؤ ں کا کچھ بھی بھلا نہیں ہوسکتا تھا۔

آرایس ایس گی بنیاد بنارس ہندو یونیورسٹی کے ثابق استاد ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگوار کے ہاتھوں 1925 میں ڈالی گئی تھی۔ ہیڈگوار کے فلسفے کی بنیاد ہندو مذہب نہیں بلکہ مراٹھا لیڈر شواجی کی زندگی تھی جنھوں نے مغلوں کے خلاف جنگ کی تھی۔ ابتدا سے ہی اس نے مسلم کش فسادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان میں ایک ایسا ہندو راشٹر قائم کرناہے جس میں آر ایس ایس کے لیڈر گولوالکر کے مطابق،’’ہندو استھان میں موجود غیر ملکی  نسلوں کو لازماً ہندو تہذیب اور زبان اختیار کرلینی چاہئے، لازماً ہندو مذہب کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔ ہندو قوم کی بڑائی کے علاوہ ان کے ذہن میں کوئی بات آنی ہی نہیں چاہئے۔ یا پھر وہ ملک میں ہندو قوم کے تابع رہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں۔ کسی خاص قسم کے برتاؤ کی تو بات ہی کیا انہیں کسی بھی مراعت کا حق نہیں ہوناچاہئے۔ ان کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔ ہم ایک قدیم قوم ہیں، آئیے ہم غیر ملکی قوموں سے اسی طرح نمٹیں جس طرح قدیم قومیں غیر ملکی قوموں سے نمٹا کرتی ہیں۔‘‘ نہیں تو، گولوالکر کے مطابق: ’’ہماری نسلی حمیت ہمارے مذہب کی دین ہے اور ہمارا تمام تر تمدن ہمارے مذہب کی پیدا وار ہے۔۔۔نسلی پاکیزگی کی بقا کیلئے سیمیٹک نسل ۔یہودیوں۔ کا صفایا کر کے جرمنی نے دنیا کو چونکا دیا۔ یہ حرکت نسلی فخر کی مظہر ہے۔ جرمنی نے یہ بھی ثابت کردیا کہ مختلف نسلوں اور ثقافتوں کا آپس میں ضم ہو نا اور ایک قوم بن جانا نا ممکن ہے ۔ یہ ہمارے یاد رکھنے اور فائدہ اٹھانے کیلئے ایک سبق ہے۔ ‘‘ (We; or, Our Nationhood Defined, Nagpur 1939)

ناتھو رام گوڈسے ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق آر ایس ایس سے تھا، کے ہاتھوں گاندھی جی کے قتل کے بعد اس تنظیم پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے ہندو مہا سبھائیوں ، جو اپنی خباثت میں اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ انھوں نے مٹھائیاں تک تقسیم کی تھیں، کے علاوہ ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس موقع پر مکھر جی نے مہا سبھا سے استعفیٰ دے ڈالا اور اس پر فرقہ پرستی پھیلانے کا بھی الزام لگایا۔ بعد میں جب مکھر جی نے گولوالکر کے سامنے ہندو تنظیم کی تجویز رکھی تو موصوف نے انھیں بتایا کہ ہندو مہا سبھا کی طرح آر ایس ایس بھی ہندو راشٹرا پر یقین رکھتی ہے جس پر مکھر جی نے کہا کہ ان کا ایک جذباتی بیان تھا اور یہ کہ وہ خود بھی ہندو راشٹرا پر یقین رکھتے تھے۔ اس کے بعد دہلی میں ہم خیال لوگوں کا ایک اجتماع ہوا اور 21 اکتوبر 1951کوہندوؤں کی ایک سیاسی جماعت بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے وجود میں آئی جس کا صدر مکھرجی کو بنایا گیا۔

1967 تک جن سنگھ اپنی مقبولیت کی حدوں کو پہنچ گئی مگر 1970 کے انتحابات تک اس کی یہ شان ماند پڑ گئی۔ اس ہار نے اسے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر اندرا گاندھی کی کانگریس کا مقابلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ 1975-77 کی ایمرجنسی کے دوران دوسری سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں کے ارکان کی طرح جن سنگھ کے ارکان کو بھی قید و بند جھیلناپڑا۔ 1977 میں امرجنسی کے اٹھائے جانے کے بعد جن سنگھ کو منسوخ کر دیا گیا اور دوسری جماعتوں کے ساتھ ساتھ اسے بھی جنتا پارٹی میں ضم کردیا گیا۔ سہولت کیلئے کی گئی اس شادی سے جن سنگھیوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا جس کے نتیجے میں اس کے جنرل سیکریٹری اٹل بہاری واجپائی وزیر داخلہ بنے اور ایل کے اڈوانی وزیراطلاعات و نشریات بنے۔ 1980 تک ایک ایک کر کے تقریباً تمام جماعتیں جنتا پارٹی سے باہر آ گئیں اور سابقہ بھارتیہ جن سنگھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل میں دوبارہ سامنے آگئی۔

جو بات دلچسپی سے خالی نہیں وہ یہ ہے کہ جن سنگھ کے انتخابی منشور میں مندروں کو ’ ’آازاد‘‘ کرانے یاایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔تاہم 1980 میں رام مندر بی جے پی کا واحد مسئلہ بن گیا جس کیلئے نکالی گئی اڈوانی کی رتھ یاترا ؤں کے ذریعے نفرت کا بازار گرم کردیا گیا اور جس کے نتیجے میں بی جے پی کو بھر پور فائدہ ہوا۔سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے رام مندرسے لے کر لو جہاداور گھر واپسی سے لے کر گاؤ رکشا تک سنگھ پریوار نے بار بار اپنا موقف بدلا ہے جبکہ جن سنگھ کے منشور میں تمام تر زور معاشی مسائل پر تھا اور ہندوتوا سے متعلق اس کے نکات بی جے پی کے ہندوتوا ، بالخصوص 80 کی دہائی میں شروع کی گئی اس کی فسطائیت کی بانسبت کہیں زیادہ معتدل تھے۔

مسلمانوں کی شکایات

اور دیگر پہلوؤں کے علاوہ1947 میں پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی ایک وجہ مسلمانوں کا یہ خوف تھا کہ ہندوؤں کی اکثریت میں وہ محفوظ نہیں رہیں گے۔ یہ خوف بلاوجہ نہیں تھا۔ مہاتما گاندھی کے پوتے او رمعروف صحافی راج موہن گاندھی کے مطابق ،’’ 1937 میں وزارتوں میں مسلمانوں کو منصفانہ حصہ نہ دے کر کانگریس نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔اس نے حقیقت سے نگاہیں چرا رکھی تھیں ۔۔۔حقیقت سے منہ موڑنے کا یہ رویہ 1980 میں بھی موجود تھا۔ کانگریس میں موجود بہت سے ہندوؤں کو ایک شخص ایک ووٹ سے متعلق مسلمانوں کے خوف کاعلم ہی نہیں تھا۔۔۔ہندوستانی انداز بیان کے بجائے ہندو اصطلاحات کے استعمال نے علیحدگی پسندی کے رجحان کو تقویت پہنچائی۔‘‘ (Understanding the Muslim Mind, Penguin Books, 1990 Delhi)

کانگریس میں موجود ہند و قومیت کے جارحانہ رویے اور عناصر کے تئیں راج موہن گاندھ نے تھوڑی سی نرمی دکھائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد علی جناح کے اس جارحیت کو محسوس کرنے سے بہت پہلے 1924میں دوسرے محمد علی(جوہر) نے اس چیز کو بھانپ لیا تھا۔ مولانا ماجد دریابادی کے بقول،’’ہندو مسلم فسادات کو کوئی 21 ء اور 22 ء میں جانتا بھی نہ تھا۔ 24 ء میں اس کی وبا پوری طرح پھوٹ چکی تھی اور جیل جاتے وقت محمد علی ملک کی جو فضا چھوڑ گئے تھے، اب اس کے بر عکس تھی۔ بات بات پر بد گمانی اور بے اعتمادی۔ ایک طرف شدھی اور سنگھٹن کا زور ، دوسری طرف اس کے جواب میں تبلیغ و تنظیم۔ بات شروع ہوئی سیاست سے اور پہنچ گئی دھرم اور ایمان تک۔ اب سب کو گاندھی جی کے چھوٹنے کا انتظار تھا، کہ دیکھئے مہاتما جی آکر اس زہر کا کیا تریاق پیش کرتے ہیں۔ گاندھی جی مارچ میں بالآخر چھوٹے ، اور آخر مئی میں ان کا مفصل بیان ہندو مسلم اتحاد پر ان کے انگریزی ہفتہ وار ینگ انڈیا میں نکلا۔۔۔ کہیں سے ینگ انڈیا آیااور مولانا جو اس کے لئے ہمہ انتظار و اشتیاق تھے ۔ جلدی جلدی اسے پڑھ گئے۔ مگر پڑھ کر کچھ زیادہ خوش نہیں ہوئے۔۔۔اتنا یاد پڑتا ہے کہ گاندھی جی کے بعض ہندو مشیروں اور مقربان خاص پر مولانا بہت بگڑے۔ ان لوگوں سے یوں بھی بہت زیادہ خوش نہیں رہا کرتے تھے۔ ہندو پبلک لیڈروں میں مولانا دل سے مداح و معترف صرف دو شخصوں کے تھے۔ ایک پنڈت جواہر لال (نہ کہ ان کے والد ماجد پنڈت موتی لال کے)دوسرے مدراسی صدر کانگریس سری نواس آئنگرکے۔ باقی اکثر کو تو وہ کم عقل یا غالی یا متشدد سمجھتے تھے۔ اور بعض کو تو کھلم کھلا بد دیانت و غیر مخلص۔‘‘ (محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق، صدق فاؤنڈیشن، لکھنؤ)

6 نومبر 1930 کو لندن سے اپنی بیٹی کے نام ایک خط میں مولانا محمد علی جوہر نے لکھا،’’جو خبریں بعض امریکن اخبارات کے ذریعے ملیں ان سے امید ہوتی ہے کہ ہندوستان کا مطالبہ متفق ہو ” خدا ہم چنیں کنند” کامیابی ہر حالت میں سخت مشکل ہے ۔ مگر اس کے بغیر نا ممکن ہے۔ خدا کرے مہا سبھائی ذہنیت سمندر پار جا کر بدل جائے اور ہندوستان والوں کو اپنی غلامی کا صحیح احساس ہو جائے اور ایک دوسرے کو غلام بنانے کے خیال کو چھوڑ کر سب دوسروں کی غلامی سے نکلنے کی کوشش کریں۔ خدا ہم ہندومسلمان دونوں کو توفیق دے کہ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف اور رواداری کا برتاؤ کریں اور غلامی سے اتنے بیزار ہوں کہ نہ دوسروں کی غلامی قبول کریں اور نہ دوسروں کو غلام بتانے کی کوشش کریں۔ آمین ثم آمین۔‘‘ ((محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق، صدق فاؤنڈیشن، لکھنؤ)

مورخہ 26 دسمبر 1930کو تحریر کردہ ایک دوسرے خط میں مولانا نے ایک طویل خط اس دعا پر ختم کیا،’’۔۔۔سارے ہندوستان کا ہندو مسلم مسئلہ ایک ہے، قومی ہے اور تاریخی ہے، صوبہ دار نہیں ہے۔ صرف اصول پر ہر جگہ طے ہو گا اور وہ اصول یہ ہے کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو پوری قوت مسلمانوں کو دو اور تسمہ ہنود کے لئے اس طرح رہنے دو یعنی Power of Majority خواہ 5 یا 6 کی ہو یا 45-40 کی ہواور Protection of Minority خواہ 45 کی ہو یا 40 کی ۔ غضب یہ ہو رہا ہے کہ سکھوں اور انگریزوں کے بہانے سے پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی مجارٹی کو مینارٹی کیا جا رہا ہے ۔‘‘ (محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق، صدق فاؤنڈیشن، لکھنؤ)

اُس وقت اندر ہی اندر پھیلائی گئی نفرتوں کا اندازا کروانے کیلئے مولانا کی لندن میں19 نومبر 1930 کو گول میز کانفرنس میں کی گئی شہرہ آفاق تقر یر ’’اگر تم مجھے آزادی نہیں دے سکتے تو دفن ہونے کیلئے یہاں قبر دینی ہو گی‘‘ کے اقتباسات پیش کرنا بے جانہ ہو گا۔ ’’جو مسئلہ ہم سب کو یہاں پر پریشان کر رہا ہے وہ ایک تیسرامسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ ہندو۔مسلمان کا مسئلہ ہے۔ مگر حیقیت یہ ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہندو مسلم مسئلہ ۔۔۔ہمارا اپنا پیدا کیا ہو اہے۔ مگر پوری طرح نہیں۔ پراتی مثل تو یہ ہے کہ ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ مگر یہاں پر کام بانٹ لیا گیا ہے۔ ہم خود اپنے آپکو منقسم کرتے ہیں اور آپ حکومت کرتے ہیں۔ جس وقت ہم یہ طے کرلیں گے کہ ہمیں اپنے درمیان پھوٹ نہیں پیدا ہونے دینا ہے آپ ہم پر حکومت نہیں کر سکیں گے، جیسے کہ اس وقت کر رہے ہیں۔ ہم یہاں پر اس عزم کے ساتھ آئے ہیں کہ اپنے درمیان پھوٹ نہیں پڑنے دیں گے۔۔۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ 3 نومبر 2015 کو انڈین ایکسپریس نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں آر ایس ایس کے ترجمان راٹر دھرما کے حوالے سے یہ بات کہی گئی ہے کہ سنگھ کے قائد دین دیال اپادھیائے ’’ہندو مسلم اتحاد کے مخالف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندو مسلم اتحاد بے معنی چیز ہے اور مسلمانوں کی خوشامد کے مترادف ہے۔

حالانکہ مولانا آزاد اور جواہر لال نہرو کی یقین دہانی پر کہ وہ ہندوستان میں محفوظ رہیں گے تقسیم کے وقت مسلمانوں کی کثیر تعداد نے ہندوستان میں رہتے رہنے کو ترجیح دی مگرعملاً انصاف اور مساوات ان کیلئے ایک خواب ہی رہا۔ جس نسل نے پاکستان کی تائید کی تھی وہ اب ختم ہو چکی مگر ہندوتوائی ، جو تقریباً ہر سیاسی جماعت میں موجود ہیں، اس سیاسی غلطی کافائدہ اٹھانے میں کوئی آر محسوس نہیں کرتے۔ اس صورتحال نے مسلمانوں کو ہندوستا ن میں اپنے کردار کے مثبت کردار کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں دی۔ پولیس اور دیگر سرکاری اداروں میں ملازمتوں کے مواقع کی مانگ علاوہ 1947 سے لے کر آج تک ان مسائل کے علاوہ کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیا گیا: (1)مسلم پرسنل لاء کا تحفظ (2) اردو کے دوسرے درجے کی سرکاری زبان کی مانگ (3) علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار (4) 1986 سے اس فہرست میں بابری مسجد شامل ہو گئی (5) اب اس میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے جھوٹے الزام لگا کر مسلم نوجوانوں کو مقید کئے جانے، گاؤ کشی یا لو جہاد کا ارتکاب کرنے کی پاداش میں ماردئیے جانے کی فکر بھی شامل ہو گئی ہے۔ البتہ کیونکہ پہلے چار نکات مستقل نوعیت کے ہیں جن میں مسلمانوں کو مستقل الجھایا گیاہے اور جن پر بی جے پی اور کانگریس دونوں نے سیاست کی ہے ہم یہاں پر انہی چار پر ایک نظر ڈالیں گے۔

مسلم پرسنل لاء

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ 1947 میں جب مغرب زدہ محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ نے ایک خود مختار مسلم ریاست کی مانگ کی تو مسلمان علماء کی تنظیم جمیعت العلما نے پاکستان کی تجویزکی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس کی حمایت کی۔ دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ اس میں جمیعت کا یہ یقین بھی شامل تھا کہ کانگریس کی قیادت میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر چلنے اور ان کی دعوت و تبلیغ کی آزادی ہو گی جس میں مسلم پرسنل لاء کا تحفظ شامل تھا۔

یوں تو ہندوستان کے آئین میں علیحدہ مسلم پرسنل لاء سے متعلق کوئی شق نہیں ہے۔ اس کے بر عکس اس کی دفعہ 44 حکومت کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کیلئے یکساں سول کوڈ متعارف کرائے۔ مگر مسلمانوں کا اس پر ہمیشہ یہ ہی موقف رہا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے آئیلی قوانین پرزد پڑتی ہے اور آئین میں دی گئی مذہبی آزادی بے معنی ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ انگریز دور حکومت میں بھی مسلمانوں کے شادی، طلاق، ورثہ، صیت، گود لینے سے متعلق مقدمات مسلم لاء کے تحت ہی طے کئے جاتے تھے۔ آئین بنتے وقت بھی جب اس کی دفعہ 44 (جو اس وقت دفعہ 35 تھی) پر بحث ہو رہی تھی تو مسلم ارکان نے یکساں سول کوڈ کی سختی سے مخالفت کی تھی جس کے نتیجے میں ڈاکٹر امبیڈکر نے یہ کہتے ہوئے اطمینان دلایا تھا کہ ’’کسی کو اس بات سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر حکومت کے پاس اختیارات ہوں گے تو وہ فوراً کوئی ایسا قدم اٹھالے گی جو مسلمانوں یا عیسائیوں یا کسی دوسرے فرقے کیلئے قابل اعتراض ہو۔ جن مسلم ارکان نے اس مسئلے پر تقاریر کی ہیں ان سمیت ہم سب کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اختیارات ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔۔۔کیونکہ ان اختیارات کو استعمال کرتے وقت مختلف فرقوں کے جذبات کا خیال رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکومت اپنے اختیارات اس انداز میں استعمال نہیں کر سکتی کہ وہ مسلمانوں کو مشتعل کر کے بغاوت پر آمادہ کر دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی حکومت نے ایسا کیا تو وہ احمق حکومت ہوگی۔‘‘(Constituent Assembly Debates Vol VII)

1947 سے مسلمانوں کے شادی ، طلاق ، ورثہ، وصیت وغیرہ سے متعلق مقدمات شریعت کی روشنی میں طے ہو رہے ہیں حالانکہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب عدالتوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور ایسے فیصلے دئے جو سراسر مسلم پرسنل لاء میں مداخلت تھے مگر یہ قانونی انتشار 1987 میں شاہ بانو کیس کے بعد سامنے آیا جب ایک عدالت نے ایک شاہ بانو نام کی ایک مطلقہ خاتون کو نان نفقہ کی حقدار قرار دیا۔ اس فیصلے کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کئے گئے۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مسلمانوں کی مانگ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پارلیمنٹ میں مسلم خاتون تحفظ بل پاس کروادیا کیونکہ اس بل کا مقصد نہ تو کوئی مسئلہ حل کرنا تھا اور نہ اس سے کوئی مسئلہ حل نہ ہو ا ۔ تاہم وقتاً فوقتاً یکساں سول کوڈ کی مانگ اٹھتی رہتی ہے حالانکہ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مطالبہ کرنے والوں کو خود بھی نہیں معلوم کہ اس کی شکل کیا ہو گی۔ ان کے مطابق اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو ہندوؤں میں ہی بہت سے فرقے اس کی مخالفت کریں گے۔ اس مانگ کا تعلق بھی سیاسی کھیل سے ہے اور جب کبھی بھی یہ مطالبہ دہرایا جاتا ہے سیاسی بازیگر فوری طور پر اس کا فائدہ اٹھانے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ اس کی ایک عمدہ مثال 1995 میں سامنے آئی جب سپریم کورٹ نے آئین میں موجود رہنما خطوط کا حوالا دیتے ہوئے حکومت سے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور عنقریب ہونے والا انتخابات کے پیش نظر ایل کے اڈوانی نے فوراً بیان دے ڈالا کہ جن چار صوبوں میں ان کی جماعت کی حکومت ہے وہاں پر یکساں سول کوڈ کا نفاذ کیا جائے گا۔ (India Today, 11 July, 1995) ۔ حالانکہ آئین کی دفعہ 254 کے مطابق کسی بھی صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ ایسا کوئی قانون بناسکے جومرکزی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ مگر بی جے پی جیسی خود غرض اور بے اصول جماعت سے اور کیا امید کی جا سکتی تھی۔ ارن جیٹلی ، جو اس وقت اس کی مجلس عاملہ کے رکن تھے، نے معاملہ یہ کہہ کر مذید صاف کردیا کہ ،’’اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ہم بے حد خوش ہوں گے کیونکہ اس سے یہ تاثر ملے گا کہ کانگریس بنیاد پرستوں کاساتھ دے رہی ہے اور ہم حقوق نسواں اور با عزت زندگی گزارنے کے حق کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ دیکھے جائیں گے۔‘‘ (India Today, 11 July, 1995)

جہاں ایک طرف مسلمانوں نے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش کواپنے دینی تشخص پر حملہ تصور کیا ہے وہیں بی جے پی اسے مسلمانوں کی منہ بھرائی کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تاہم یہ کہتے ہوئے سخت تکلیف ہوتی ہے کہ مسلم قیادت کی جانب سے اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی خواہش تک موجود نظر نہیں آتی۔ جبکہ 1920 میں جمیعت العلما کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کا زور ہی اس بات پر تھا کہ وہ مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت کرنا چاہتی تھی اپنے ایک اجلاس میں اس نے تجویز پاس کر کے مسلمانوں کے شرعی قوانین چھوڑ کر قبائلی یا مقامی قوانین پر عمل کر کے مسلم خواتین کو ان کے حق سے محروم کرنے کی سخت مذمت کی تھی اور اسے ایک شرمناک فعل قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں 14نومبر کے جدید خبر میں معروف عالم دین مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کے مضمون سے یہ اقتباس لینا بے جا نہ ہو گا، ’’یہاں مسئلہ خود ہمارے انتہا پسندانہ عناصر کا بھی آئے گا۔ اور ہمیں تیار ہونا ہو گا کہ اس بارے میں جتنی بات واقعیت رکھتی ہو اسے قبول کرنے میں جری ہوں ۔۔۔علاوہ ازیں ہمارے پرسنل لا جیسے معاملات کا قصہ بھی آ سکتا ہے ، ہمیں اس کے لئے بھی ایک نئے علم کلام کی ضرورت ہو گی۔ ہمارے مذہب کا حصہ ہے کہہ کر کام نہیں چلایا جا سکے گا۔‘‘

اردو
ہندوستانی زبان ہونے اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول ہونے کے باوجود اردو کو مسلمانوں کی زبان کے طور پر پیش کیاگیا حالانکہ 1971 کی مردم شماری کے مطابق اردو بولنے والوں کا تناسب یو پی میں 10.5% بہار میں 8.8% آندھرا میں 7.5% ، کرناٹک میں 9.0% اور مہاراشٹر میں 7.3% تھا۔ ملک بھر میں مختلف تحریکیں چلائے جانے کے بعد (جس میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی چلائی گئی دستخطی مہم شامل ہے جو 1967 میں صدر مملکت بھی بنے اور اردو سمیت کسی بھی ملی معاملے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکے)۔ مسلمانوں کو لالی پاپ دینے کیلئے 1972 میں مسز گاندھی نے اردو کے فروغ کیلئے گجرال کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے 1975 میں اپنی رپورٹ پیش کردی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ جن شہری علاقوں میں اردو بولنے والوں کا تناسب 10% سے زیادہ ہو وہاں پر اردو میڈیم پرائمری اسکول قائم کئے جائیں اور جن ریاستوں کی زبان ہندی ہے وہاں پر اسکولوں میں سہ لسانی فارمولے کا نفاذ کیا جائے جس کے تحت اسکولوں میں ہندی کے ساتھ ساتھ اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جانا شامل تھا۔ مگر یہ رپورٹ بابو جگ جیون رام جیسے کہنہ مشق سیاست داں کے اصرار پر دبادی گئی اور اس کی وجہ سے پرائمری اسکولوں میں اردو بولنے والے طلبا کی تعداد اور اردو اخبارات کی تعداد میں زبردست تنذ لی آئی۔

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی
علیگڑ ھ مسلم یونیورسٹی (جو شروع میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج تھا) کا وجود سرسید احمد خان نے 1877میں مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بحبود کیلئے قائم کی تھی۔ 1920 میں اسے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ایکٹ 1920 کے ذریعے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا جس میں طلبا کی مذہبی تعلیم، یونیورسٹی کا اقامتی کردار اور مسلمانوں کے ہاتھ میں ادارے کے نظم و ضبط کا اختیار دیا گیا تھا۔ 1951 میں پارلیمنٹ میں ایک ترمیمی بل منظور کر کے ادارے کے یہ تینوں کردار ختم کر دئے گئے۔ یہ حرکت آئین کی دفعہ 30 (1) کی کھلی خلاف ورزی تھی جس میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنے اورچلانے کی آزادی دی گئی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چائیے کہ اے ایم یو کوئی دینی ادارہ نہیں ہے اور جس وقت یہ کالا قانون منظور کیا گیا تھا اس وقت بھی یہاں کے طلبا اور اساتذہ میں غیر مسلموں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ جب مسلمانوں نے اسے عدالت میں چیلنج کیا تو تمام تاریخی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ ادارہ مسلمانوں کے ذریعے نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے ایک قانون کے ذریعے وجود میں لایا گیا تھا۔ 1965 میں پارلیمنٹ میں ایک اور قانون منظور کیا گیا جس میں یونیورسٹی کی خود مختاری ختم کردی گئی۔ مسلمانوں کے ذریعے مسلسل ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں 1972 میں ایک اور ترمیمی بل لایا گیا مگر اس سے حاصل کچھ نہ ہوا۔ تاہم 1981میں منظور کئے گئے ایک بل میں مسلمانوں کے مطالبے کے مطابق ادارے کے اقلیتی کردار کو واضح طور پر تسلیم کر لیا گیا۔

بابری مسجد کی سیاست

6 دسمبر 1983تک ایودھیا میں ایک تاریخی مسجد بابری مسجد کے نام سے موجود تھی۔ یہ مسجد مغل شہنشاہ بابر کے ایک جنرل میر باقی نے پٹھان حکمراں سکندر لودھی پر مغل فوج کی فتح کی یاد میں 1528 میں تعمیر کی تھی۔ تاہم ہندوتوائیوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد رام مندر مسمار کر کے اس کی جگہ بتائی گئی تھی۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق کسی معتبر تاریخی حوالے سے نہیں ہوتی۔ 1991 میں مورخین نے اس وقت کے ریاستی وزیر برائے داخلی امور ایس کے سہائے کو ایک مشترکہ رپورٹ مرتب کی تھی۔مشترکہ طور پر تحقیق کے بعد اس میں انھوں نے جو نتائج اخذ کئے تھے وہ ہیں:
’’ (1) تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ سولہویں صدی (یا اٹھارہویں صدی میں) ایودھیا میں کوئی ایسا مقام رہا ہو جسے رام کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے تقدس حاصل رہا ہو۔ (2) ایسا کوئی ثبوت نہیں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ جس جگہ پر باری مسجد تعمیر کی گئی تھی وہاں پر رام کے نام کا یا کوئی اور مندر موجود تھا۔۔۔اس نتیجے کی بنیاد آقار قدیمہ کے شواہد کے مشاہدے اور مسجد میں نصب شدہ کتبے ہیں۔ (3) رام مندر کے مقام پر بابری مسجد تعمیر کئے جانے کا افسانہ اٹھارہویں صدی تک وجود میں نہیں آیا تھا اور مسجد کی تعمیرکیلئے مندر مسمار کئے جانے کی بات انیسویں صدی تک نہیں اٹھائی گئی تھی۔۔۔(4) مندر مسمار کئے جانے کا مکمل افسانہ ۔۔۔1950 میں سامنے لایا گیا۔ اس کے بعد سے جو کچھ ہمارے سامنے پیش کیا جا رہا ہے وہ محض خیالی تاریخ پرمبنی بتدریج گھڑا گیا افسانہ ہے جس کی بنیاد عقیدہ ہے۔‘‘

اس رپورٹ کے خالق آر ایس شرما ،ریٹائرڈ پروفیسر، شعبہ تاریخ دہلی یونیورسٹی؛ ایم اطہرعلی ، پروفیسر شعبہ تاریخ ، اے ایم یو اور سابق صدرانڈین ہسٹری کانگریس ؛پروفیسر ڈی این جھا، شعبہ تاریخ دہلی یونیورسٹی اورپرفیسر آرکیالوجی، کرکشیتر یونیورسٹی اور ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسزکرکشیتر یونیورسٹی تھے۔ بہر حال سنگھ پریوار کے نزدیک تاریخی شواہد نا قابل قبول تھے اورہیں یہاں تک کہ’’معتدل‘‘ لیڈر اٹل بہاری واجپائی نے بھی واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ معاملہ عدالت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دیں۔

اس کی ابتدا کیسے ہوئی؟ تقسیم کے فوراً بعد مسلمانوں کی خستہ حالی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 22-23 دسمبر کی رات کو ہندو نو جوانوں کا ایک گروہ مسجد میں داخل ہوا اور وہاں پر رام کا ایک مجسمہ نصب کر دیا۔ یہ کام پولیس کی نفری کی موجودگی میں انجام دیا گیا جنہیں وہاں پر 13 نومبر 1948 کو مسجد پرایک حملے کے بعد تعینات کیا گیا تھا۔ واقعے کے دوسرے روز علاقے میں افواہ پھیلادی گئی کہ اپنا مندر واپس لینے کیلئے مسجد میں بھگوان رام پرکٹ ہوگئے ہیں۔ اس کے خلاف ہونے والے احتجاج کو بزور طاقت دبا دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے کے نائر،جو مسجد میں مجسمہ رکھے جانے کی سازش میں شامل تھے، نے اسے ہٹوانے سے انکار کردیا اور نہ ہی مجرموں کے خلا ف کوئی قانونی کارروائی کی گئی۔ ان میں سے ایک کا نام ابھوت رام چندر تھا۔ 22 دسمبر 1991 کے نیویارک ٹائمز میں اس نے تسلیم کیا کہ ان مجرموں میں سے ایک وہ خود تھا۔ بہر حال ریٹائرمنٹ کے کچھ دنوں پہلے کے کے نائر نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور شہید بننے کیلئے اپنی نوکری سے استعفیٰ دیدیا جس کا انعام انہیں یہ ملا کہ وہ پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہو گئے۔ 1948 سے 1986 کے درمیان جبکہ مقدمہ ہائی کورٹ میں التوا میں پڑا ہوا تھا مسجد کو مندرکے طور پر استعمال ہوتے رہنے دیا گیا، پوجا پاٹ ہوتی رہی اور اس کے اطراف میں 200گز تک مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ اس دوران بہر حال اس کی نوعیت ایک مقامی مقدمے ہی کی رہی۔ چند ہی لوگوں کو اس کا علم تھا اور بہت ہی کم لوگوں کو اس میں دلچسپی تھی۔ پیٹر وین ڈیر کے مطابق ، ’’1977اور 1984 کے درمیان میں کئی مرتبہ ایودھیا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ وہاں پر اسکے بجائے کہ مسجد پر کون حملہ کرے گا، تمام تر اختلافات اس بات پر تھے کہ چندہ سے ملنے والی رقم میں کون سا حصہ کس کے پاس جائے گا۔‘‘(Religious Nationalism University of California Press, London 1994)

1984 میں وشوا ہندو پریشد نے رام کی خیالی جائے پیدائش کی آزادی کی مہم کا آغاز کر دیا۔ 19 دسمبر 1985کو ریٹائرڈ ہندو افسران پر مشتمل ایک وفد نے اس وقت یوپی کے چیف منسٹر وی پی سنگھ سے ملاقات کر کے انھیں دھمکی دی کہ اگر 8 مارچ تک ’’مندر‘‘ ان کے حوالے نہ کیا گیا تو بزور طاقت اس کا قبضہ لینے کیلئے ملک گیر تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ 1986 میں مسلم ویمنز بل منظور کر وانے کے بعد رجیو گاندھی کو یہ خیال ہوا کہ انہوں نے ہندوؤں کو ناراض کر دیا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم ویمنز بل بھی اس دباؤ کا نتیجہ تھا جو مسلم تنظیموں نے بنا رکھا تھا اور بالآخر راجیو گاندھی نے مسجد کو پوجا پاٹ کیلئے کھلوا کر انہیں خوش کرنے کی کوشش کی۔

بی جے پی کے نائب صدر اورآر ایس ایس کے ہفتہ وار ترجمان آنجہانی کے آر ملکانی کے مطابق، ’’ارباب اختیار نے، مثبت کار روائی کی یقین دہانہ کے ساتھ، وی ایچ پی کو مشورہ دیا تھا کہ تالا کھلوانے کیلئے باقاعدہ درخواست دے۔مگر وی ایچ پی نے جواب دیا کہ اسے تالا کھلوانے میں تو دلچسپی ہے مگر عدالت میں جانے سے نہیں۔ لہٰذا کانگریس نے ایک مقامی وکیل، امیش چند پانڈے، کے ذریعے 21 جنوری کو منصفی میں درخواست داخل کروائی۔ 28 جنوری کو منصف نے حکم نامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔اس کے فوراً بعد ضلع جج کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی۔۔۔یہاں پر پہلی فروری کو تالے کھولے جانے کا حکم نامہ جاری ہوگیا۔‘‘ (The Politics of Ayodhya Har-Aannd Publications, Delhi 1993) ۔ یہاں سے ’’مندر آزاد‘‘ کروانے کی مہم بی جے پی نے سنبھال لی۔ (Veer Peter van der, Religious Nationalism University of California Press, London 1994) اور بی جے پی نے ایک مقامی مسئلے کو اکثریت کے ساتھ نا انصافی اور خطرے کی ایک علامت میں تبدیلی کر دیا۔

دوسرے مرحلے میں 1989 میں راجیو گاندھی نے اپنی انتخابی مہم ایودھیا سے کچھ ہی فاصلے پر فیض آباد سے شروع کی جہاں پر اس نے رام راجیہ پر اپنے یقین کی بات کی اور بر سراقتدار آنے کے بعد اس نے وی ایچ پی کو مجوزہ مندر کی بنیاد ڈالنے کی اجازت دے دی۔

راجیو گاندھی کے پرانے ساتھی اور کابینی رکن ارون نہرو کے بقول، ’’جب میں نے راجیو گاندھی سے دریافت کیا کہ دور درشن پر اس رسم کو کون دکھا رہا ہے تو وہ مسکرا دئے اور بس اتنا کہا کہ یہ مسلم ویمنز بل کا بدلہ ہے۔‘‘(بحوالہ Mushirul Hasan in Anatomy of Confrontation edited by Gopal Sarvapalle, Zed Books, London 1991)

6 دسمبر 1992 کومحض 5,000 نام نہاد کار سیوکوں نے 25,000 نیم فوجی ارکان کی موجودگی میں بابری مسجد شہید کر دی۔ دستی بموں، ربر بلیٹس، ربر پیلیٹس وغیرہ سے لیس یہ جوان وہاں کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔ (India Today, 31 December 1992) ملکانی نے لکھا ہے کہ ’’اڈوانی کا خیال ہے کہ وزیر اعظم کے مشیروں نے۔۔ خواہ وہ پی ایم او آفس میں ہوں، ایودھیا سیل میں ہوں یا انٹیلی جینس بیورو میں ہوں۔۔ مشورہ دیا تھا کہ ایک معرکہ ہونا نا گزیر تھا لہٰذا الیکشن کے نزدیک ہونے سے بہتر ہے کہ وہ اب ہو جائے۔ اس تاثر کی تصدیق اس بات سے بھی ہوجاتی ہے کہ 18نومبر سے 6 دسمبر کے درمیان وزیر اعظم نے اڈوانی سے رابطہ نہیں کیا۔‘‘

ملکانی کے مطابق اڈوانی کے بیٹے کی شادی کے موقع پر نرسمہا راؤ نے آر ایس ایس کے اس وقت کے چیف بالا صاحب دیو رس سے یہاں تک کہا کہ جب وہ مسجد مسمار کرنے کے فیصلہ کرلیں تو انہیں یعنی نرسمہا راؤ کو اس سے مطلع کردیں۔ ملکانی کا تعلق آر ایس ایس سے تھا جو جھوٹ اور مکاری میں اپنی مثال آپ ہے اور وہ اسی آرگنائزر کے ایڈیٹر تھے جس نے بابری مسجد میں چوری چھپے بت رکھے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا کہ’’23دسمبر 1949 کو جنم استھان بھومی پر سری لام للا اور سیتا دیوی کے مجسمے معجزانہ طور پر نمودار ہو گئے۔ ‘‘(بحوالہ Mushirul Hasan in Anatomy of Confrontation edited by Gopal Sarvapalle, Zed Books, London 1991) لہٰذا ان کی بات پر یقین کرنے میں ذرا احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ بہر حال 31 دسمبر کے انڈیا ٹوڈے کا یہ دعویٰ اور زیادہ چونکادینے والا ہے کہ نرسمہا راؤ کو ایودھیا سے خبریں لمحہ بہ لمحہ موصول ہو رہی تھیں اور ان کے نزدیکی مشیر انہیں کار روائی کرنے کیلئے کہہ رہے تھے مگر انھوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اس بات کی تصدیق معروف صحافی کلدیپ نیر نے اپنی کتاب Beyond the Lines میں اس طرح کی ہے، ’’میری معلومات یہ ہیں کہ راؤ ] مسجد[مسمار کرنے کی سازش میں شامل تھے۔ جس وقت کار سیوکوں نے مسجد کو مسمار کرنا شروع کیا وہ پوجا پاٹھ میں مصروف رہے اور جب تک اس کی آخری اینٹ نہ گرادی گئی وہ وہاں سے نہیں اٹھے۔ ‘‘
’’مدھو لیمے (آنجہانی سوشلسٹ لیڈر) نے مجھے بتایا تھا کہ پوجا کے دوران راؤ کے ایلچی نے ان کے کان میں بتایا کہ مسجد مسمار کر دی گئی ہے جس کے بعد چند سکنڈوں میں پوجا ختم ہو گئی۔ ‘‘

مسلمانوں کے ساتھ بے وفائی

آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے کانگریس پر اندھا یقین کیا۔ ان کے نزدیک کانگریس کا سیکولرزم اور تکثیریت پر اس کا فلسفہ ان کی بقاء کا واحد راستہ تھا۔ اس کے بر عکس ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک کانگریس ایک ہندو پارٹی تھی۔ نہرو اور چندمسلمانوں کے علاوہ اس کے اکثر قائدین مسلمانوں کی ہر جائز بات کی مخالفت کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر1951 میں پہلا حملہ پنڈت جواہر لال کی وزارت عظمیٰ، مولانا آزاد کی وزارت تعلیم اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی وائس چانسلر شپ کے دوران ہوا۔ اکیلا یہ واقعہ ہی اس وقت کے ہندتوا وادیوں پر یہ ثابت کرنے کیلئے کافی تھا کہ ایک مسلمان وزیر محض ایک مہرا ہوتا ہے جس کے پاس اختیارات کچھ نہیں ہوتے۔

نہرو جی کی موت کے صرف ایک سال بعد ان کی دختر اندرا گاندھی وزارت عظمیٰ کی گدی پر براج مان ہو گئیں۔ انھوں نے بھی اپنے آپ کو لبرل اور سکیولرسٹ کے طو رپر پیش کیا مگر مذہب کو استعمال کرنے میں کبھی کوئی جھجک محسوس نہیں کی ۔ پنجاب میں بھنڈرا والا کھڑا کر کے اور صوبے میں آگ لگانے کا سہرا انہی کے سر ہے۔ (Tully Mark and Jackb, Mrs Gandhi’s Last Battle, Jonathan Cape, London 1985) کشمیر میں مستقل دخل اندازی کرنا اور منصفانہ انتخابات میں رخنے پیدا کر کے علیحدگی پسندوں کو تقویت دینا بھی انہی کا کارنامہ ہے۔ اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں انھوں نے مذہب اور سیکولرزم دونوں کو یکساں طور پر استعمال کیا۔ ان کے بدنام زمانہ ایمرجنسی کے دوران مسلمانوں کو سب سے زیادہ مصائب برداشت کرنا پڑے۔ لندن میں مقیم دائیں بازو کے معروف مصنف طارق علی کے مطابق، ’’صفائی کے نام پر پراپرٹی اسپیکولیٹرز کیلئے جامع مسجد کے اطراف میں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کئے جانے نے ایمرجنسی کی قسمت کا فیصلہ کردیا تھا۔ صدر مملکت ] فخرالدین علی احمد[ ، جو خودایک مسلمان تھے، نے سنجے سے صبر کی درخواست کی۔ مسلمانوں کی جانب سے کشمیر کے قدآور سیاست داں شیخ عبداﷲ نے مسز گاندھی سے مداخلت کرنے اور اس ذلت کو روکنے کی درخواست کی مگر انہیں نظر انداز کردیا گیا۔۔۔دہلی ڈیولپنٹ اتھارٹی کے نائب چےئرمین جگ موہن، جو ایک چمچے کی حیثیت رکھتے تھے اور جو نہایت فرقہ پرست شخص تھے ایک وفدکویہ کہہ کر ذلیل کیا، ’’تو تم دہلی کے ول میں ایک چھوٹا پاکستان بنانا چاہتے ہو۔‘‘(Ali Tariq, Nehrus and Gandhis, Picador, London 1991)

تقریباً ہر انتخاب کے وقت اندرا گاندھی نے مسلمانوں سے مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار بحال کرنے، اردو کو اس کی حیثیت دینے اور مسلمانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ایک وعدہ بھی وفا نہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کویہ تاثر دیاجاتا رہا کہ مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کا مطلب ہندوؤں کے حقوق چھین کر مسلمانوں کی منہ بھرائی ہو گا۔ مارک ٹیلی کے بقول حقیقت یہ ہے کہ ’’اپنے اقتدار کے آخری دور میں مسز گاندھی۔۔۔ نے ہندوؤں کو ایک مضبوط ووٹ بلاک میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔۔۔اس نئی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پورا ہندوستان ہندو احیاء پرستی کی زد میں ہے۔‘‘ (Tully Mark and Jackb, Mrs Gandhi’s Last Battle, Jonathan Cape, London 1985)

بی جے پی کے ترجمان ایم جے اکبر کی تحریر کا حوالہ دینا بڑا عجیب سا معلوم ہوتا ہے ۔ بہر حال یہ اس وقت کی ہے جب وہ اپنی بے باک اور جرت مندانہ صحافت کیلئے مشہور تھے۔ پہلے انھوں نے کانگریس میں شامل ہو کر اینی شہرت کو داغدار کیا تھا اور جو کچھ کسر باقی تھی وہ بی جے پی میں شامل ہو کر پوری کر دی۔ جو شخص ہندوستان کی تاریخ میں گنے چنے بے باک صحافیوں میں شمار کیا جاتا تھا اورجسے آئندہ نسلیں آزاد ہندوستان میں صحافت کے میدان میں کامیابی کی حدوں کو چھونے والے واحد مسلمان کے طور پر یاد کرتیں اس نے اپنے آپ کو خود غرض، بکاؤ، اور ضمیر فروشوں کی صف میں لا کر کھڑا کر دیا۔ان کی پرانی کتاب کے مطابق، ’’ہندو احیاء پرستوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہندو اکثریتی ہندوستان میں مسلمان نہیں بلکہ ہندو اور ہندو دھرم خطرے میں ہیں۔۔۔مسز گاندھی نے اکثر اقلیت دشمنی کا مظاہرہ کیا۔اشاروں کنایوں میں وہ یہ بات کہتی رہیں کہ مسلمانوں نے ابھی تک اپنا تباہ کن کھیل کھیلنا نہیں چھوڑا ہے اور جب کبھی بھی مسلمانوں سے متعلق کوئی مسئلہ پیش آتا اس میں ہمیشہ غیر ملکی ہاتھ تلاش کیا جاتا۔‘‘(Akbar M.J. India Tile Siege Within Penguins Books, London 1985)

1978 میں مرارجی ڈیسائی کے زیر قیادت جنتا پارٹی حکومت نے اقلیتی کمیشن قائم کیا۔ دو سال بعد مسلمانوں کے حالات کے مطالعے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ 1983میں مسز گاندھی نے ایک پروگرام متعارف کیا جس کے تحت مسلمانوں کیلئے روزگار اور قرضوں کے حصول میںآسانیاں پیدا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ گوپال سنگھ کمیشن رپورٹ کی سفارشات کو دبا دیا گیا جسے وی پی سنگھ نے شائع کیا۔ انڈیا ٹو ڈے کے مطابق اس طرح ،’’مسلمانوں کے حالات سے متعلق معلومات ملک کے ان رازوں میں شامل ہو گئیں جن کی خاص طور پر نگرانی کی جاتی ہے اور ] مسلم مخالف تحریکوں کیلئے[ پروپیگنڈے کا بہترین مواد فراہم ہو گیا۔‘‘ (31جنوری (1991 بہر حال منموہن سنگھ نے سچر کمیٹی کے تحت تفصیلی مطالعہ کروا کر اور اسے شائع کر کے کچھ تو معاملے کو آگے بڑھا یا مگر کیا اس سے آئندہ کوئی فائدہ بھی ہو گا اس کے امکانات بہت زیادہ روشن نہیں ہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کانگریس دور حکومت میں بہت سے مسلمان وزیر بنائے گئے مگر آزادی سے لے کر آج تک رفیع احمد قدوائی مرحوم کے علاوہ ملت کے کسی کام کے نہ تھے۔( اگر مسلمانوں کو وزارت دینا ہی کوئی بہت بڑا احسان ہے تو یہ کام تو بی جے پی نے بھی کر دیا۔) ان وزراء سے توقع یہ کی جاتی ہے ، جس پر وہ پورا بھی اترتے ہیں، کہ کسی بھی ظلم و نا انصافی کے خلاف زبان تک نہیں ہلائیں گے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سب سے زیادہ قابل قدر وزیر تعلیم کی موجودگی میں مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی کردار سے محروم کیا گیا۔ ایک مسلم وزیر کتنا بے بس اور لاچار ہو سکتا ہے اس کی عکاسی ڈاکٹر ذاکر حسین کے نواسے اور بابری مسجد شہادت کے وقت وزیر کامرز سلمان خورشید کے اس مضمون سے ہوتی ہے جو انھوں نے سنڈے میگزین میں 7 دسمبر 1992 کو لکھا تھا۔ موصوف فرماتے ہیں: ’’مجھ سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ بحیثیت مسلمان میں اس توڑ پھوڑ اور تباہی کا جواب دوں جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ مطالبہ ہمدردوں اور مخالفین دونوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ مسلمان وزرا خاموش کیوں ہیں؟ مسلمان وزرا اپنی کرسیاں کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ ۔۔۔شاہ بانو، اے ایم یو اور جامعہ کے مسئلے پر وہ مسلمان وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے بولنے کے حق پر معترض تھے۔ اس وقت ان سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ اسلئے استعفیٰ دیں کیونکہ وہ بولے تھے۔ آج ان سے اس لئے استعفوں کیلئے کہا جا رہا ہے کیونکہ وہ بولے نہیں! بین السطور میں پڑھنے کی کوشش کیجئے: مسلمان صرف اپنے وجود اور ملک کو تباہ کرنے کیلئے بولیں۔‘‘ جہاں تک پہلے حصے کا تعلق ہے سلمان خورشید سے ہر کوئی اتفاق کرے گا مگر آخر کے جملے میں جو دفاع انھوں نے پیش کرنے کی کوشش کی وہ نہایت کمزور اور مضحکہ خیز ہے۔

گجرات اور مظفر نگر سے پہلے تمام بھیانک ترین فسادات کانگریس دور حکومت میں ہی ہوئے ہیں جن میں پولیس نے لرزہ خیز مظالم برپا کئے مگر کوئی ایک مثال بھی ایسی موجود نہیں جس میں کسی مسلم وزیر یا ممبر پارلیمنٹ نے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی جرت کی ہو یا ان جرائم میں ملوث کسی ایک افسر کو کوئی سزا دی گئی ہو۔

سابقہ جن سنگھ کے ہندو وادی نعروں کے باوجود اسے ہندو ووٹ نہیں مل پائے کیونکہ اسکے پاس دینے کیلئے ایسا کچھ نہیں تھا جو کانگریس فراہم نہ کر رہی ہو۔ 1948 میں کانگریس نے بابری مسجد میں بت رکھوا دئے اور ایک آباد مسجد کو راتوں رات مندر میں تبدیل کردیا۔ 1950 میں یونین کابینی وزیر کے ایم منشی نے محمود غزنوی کے ہاتھوں تباہ کئے گئے گجرات کے معروف مندر سومناتھ کی تعمیر نو کی مہم شروع کردی۔ اصولی طور پر ہندوؤں کی اس دیرینہ خواہش کو پورا کرنے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی۔ جو بات اہم ہے وہ ، وہ الفاظ ہیں جو کے ایم منشی اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے استعمال کئے۔ ان دونوں نے اسے ہندو ازم کی احیاء نو سے تعبیر کیا۔ اس تعمیر کے اخراجات کانگریسی حکومت نے برداشت کئے اور 11 مئی 1950 کو صدر مملکت نے اس کا افتتاح کیا۔ اب ذرا اسے اس تناظر میں دیکھئے کہ کانگریسی حکومتیں مسلمانوں کو ان مساجد میں نماز کی ادائیگی سے مسلسل روک رہی ہیں جنہیں آثار قدیمہ کی حفاظت کے نام پر بند کر دیا گیا ہے ، یا وہ نماز کے علاوہ دوسرے تمام کاموں کیلئے کھلی ہوئی ہیں اور جن کی تعداد صرف دہلی میں 300 کے قریب ہے۔

اس طرح کانگریس کو شکست دینے کیلئے جن سنگھ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا۔ 1980 میں بی جے پی کے روپ میں اس کے دوسرے جنم کے بعد بھی اس کے پاس کوئی ایسی پر کشش بات نہیں تھی جس سے ہندو ووٹروں کو اپنی جانب راغب کر سکتی۔ بہرحال جب وی ایچ پی کی شروع کی گئی نام نہاد مندروں کی آزادی کی مہم بی جے پی نے اپنے ذمہ لے لی تو کانگریس کے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی اور راجیو گاندھی نے بابری مسجد کا تالا کھلوادیا، ’’رام راجیہ‘‘ قائم کرنے کا وعدہ کیا اور یہاں تک کہ اوقاف کی زمین، جس پر بی جے پی نے زبردستی قبضہ کیا تھا، پر شیلا نیاس کی اجازت بھی دے ڈالی۔

ظاہر ہے کہ پارسی کے بیٹے، نہرو خاندان کے مغرب زدہ کنبے میں پلے بڑھے اور ایک کیتھولک عیسائی کے شوہر کو ہندوتوا کے اصل دعوے داروں کے سامنے کون سنجیدگی سے لیتا؟اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے سامنے وہ ان سے بڑے ہند و ہونے کا وعویٰ نہیں کر سکتے تھی۔ اب تو ہار سامنے نظر آنے لگی تھی۔

راجیو گاندھی کے بعد ہندوتوا کے راگ پر رقص کرنے کی اب نرسمہا راؤ کی باری تھی۔ مگر اصل ہندوتوا والوں کو ہرانا ان کے بس میں بھی نہ تھا۔ اب ہندو ؤں کے ذہن آلودہ کئے جا چکے تھے۔ بابری مسجد جلتی رہی اور نرسمہا راؤ چین کی بانسری بجاتے رہے۔ مگر بابری مسجد سے اٹھی شعائیں ایودھیا تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسرے شہروں میں بھی مسلمانوں کے گھروں اور تجارتوں کو اپنی زد میں لے لیا۔نرسمہا راؤ نے مسجد دوبارہ تعمیر کروانے کا اعلان کر دیا۔ بعد میں انھوں نے انڈیا ٹو ڈے کو دےئے گئے انٹر ویو میں بتایا کہ انھوں نے یہ اعلان اس لئے کیا تھا کہ کہیں ان سے پہلے ایسا اعلان نوازشریف نہ کر دے۔ اب بی جے پی کو یقین ہو چلا تھا کہ وہ الیکشن کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ ویسے تو مسمار کرنے کیلئے ان کی پارٹی کے پاس پہلے ہی پانج ہزار مساجدکی فہرست تھی مگر پھر بھی اڈوانی نے وی ایچ پی کو مشورہ دیا کہ وہ کاشی کی مسجد کیلئے بھی تیاری کرے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑا ہندو کارڈ کانگریس کے پاس نہیں تھا۔

بہر حال 1998-99 اور 1999-2004 میں بحیثیت برسر اقتدار پارٹی اور بعد میں حزب اختلاف میں، بی جے پی کے ووٹروں نے اچھی طرح دیکھ لیا کہ اس کے لیڈر ہندوستان میں دوسری جماعتوں کی بہ نسبت کسی طرح کم بد عنوان نہیں تھے۔ 2009 تک رائے دہندگان نے بی جے پی کا بد نما چہرہ اچھی طرح دیکھ لیا تھا اور زعفرانی ٹولے کو باہر کا راستہ دکھادیا۔

مگر 2002سے 2014 تک زعفرانی دہشت گرد’’ ہندوتوا کی تجر بہ گاہ ‘‘گجرات میں بہت سے تجربے کر چکے تھے۔ نریندر مودی کو پورا احساس تھا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے بر عکس ، بحیثیت وزارت عظمیٰ کے امید وار نہ یہ کہ انہیں دنیا دیکھ رہی ہو گی بلکہ کامیابی کیلئے انہیں غیر ہندوؤں کے ووٹوں کی ضرورت بھی ہو گی۔ لہٰذا اس کیلئے بہترین منصوبہ تیار کیاگیا جس کے تحت مودی عوام سے ’’اچھے دن‘‘ لانے کا وعدہ کرکے خوبصورت خواب دکھا تے رہے تو ان کا بایاں بازو امت شاہ فضا مکدر اور زہر آلودکرنے کے کام میں مصروف رہا۔ اور یہ کام اس نے نہایت مہارت اور خوبی کے ساتھ انجام دیا۔ ’’ایک شخص کھانے اور نیند کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے ۔ وہ بھوک اور پیاس میں بھی زندہ رہ سکتا ہے مگر ذلیل کئے جانے پر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ذلت کا بدلہ لینا ہو گا۔‘‘ اس نے مظفر نگر میں ایک تقریر میں کہا۔ (Time of India, 2 Jan 2015) اس شخص کی نفرت اورپراگندہ ذہنیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ مغربی بنگال میں ایک ریلی کے دوران جب وہ تقریر کر رہا تھا اس دوران اذان کی آواز سنائی دی۔ غالباً مودی یا دوسرے زعفرانی ایجنٹوں کے مشورے پر اس نے سیکولر بننے اور اسلام کیلئے اپنے احترام کا ڈرامہ رچانے کی غرض سے وہ ایک لمحے کیلئے خاموش ہو گیا۔ مگر یہ ایسا کڑوہ گھونٹ تھا جو اس کی برداشت سے باہر تھا اپنی اصلیت پر قابو نہ رکھتے ہوئے اس نے سامعین سے کہا، ’’۔۔۔ذرا بند ہوجانے دیجئے ، ان کو بہانہ نہیں دینا ممتا دی دی کو۔۔۔ دو منٹ لگیں گے ٹھہر جائیے ذرا۔ میں آپ لوگوں کی بھاؤناؤں کو سمجھتا ہوں، اچھے سے سمجھتا ہوں۔ مگر میں ممتا دیدی کو کوئی بہانہ نہیں دینا چاہتا۔ ورنہ وہ کوئی ریلی نہ ہونے دیتی۔‘‘ (Time of India, 4 Jan 2015)

گجرات میں فرقہ واریت پھیلا کر اور اس کے بعد 2014 میں پارلیمانی انتخا بات میں نفرتیں عام کردینے اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے بعد دونوں کو ، بلکہ پوری پارٹی کو، اس بات کا احساس تھا کہ ہر ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کے بعد ان کے ووٹوں میں اضافہ ہوتا ہے۔اس لئے یہاں پر کام کی تقسیم بھی بڑی عمدگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ یعنی امت شاہ اور دوسرے ارکان اشتعال انگیز تقاریر کرکے عوام کو مشتعل کرتے رہیں گے اور مودی ،’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘‘ کی مالا جپتے رہیں گے۔

ابھی چند سال پہلے تک شہروں کی بہ نسبت دیہاتوں میں مکمل فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کا ماحول ہوا کرتا تھا۔ مگر تعصب اور نفرت کو اب دیہاتوں تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب بہت سے دیہاتوں میں ماحول شہروں سے زیادہ مخدوش ہے۔ یوں توبی جے پی کا اصل ہدف مسلمان ہیں مگر دلت اور دیگر اقلیتیں بھی کچھ زیادہ محفوظ نہیں ہیں۔ پرانی مثل ہے کہ جو چیز اوپر جاتی ہے وہ نیچے بھی ضرور آتی ہے۔ جلد یا بدیر عوام کو ہوش آئے گا، جس کا مظاہرہ بہار میں ہو چکا، مگر اس دوران بی جے پی معاشرے کو کتنا نقصان پہنچا چکے گی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

زعفرانی دل کا مسئلہ یہ ہے کہ حب الوطنی پر وہ اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں اور صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ جو کوئی بھی ان سے اختلاف کرے وہ غدارہونے کے زمرے میں آجاتا ہے اور ان کی حب الوطنی کی تعریف یہ ہے کہ ان کی برتری اور غلامی قبول کر لی جائے۔ ہندوستان پر فسطائیت تھوپنے کا خواب وہ 1920 سے دیکھ رہے ہیں۔ حکومت میں آنے کے 19 ماہ کے اندر اندر زعفرانی برگیڈ نے سماجی اور سیاسی ماحول بری طرح برباد کردیا۔ ان کے پاس چار سال اور ہیں اور یہ سوچ کر خوف آتا ہے کہ اس دوران وہ اور کیا کچھ کر گزریں گے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے سامنے کوئی چیلنج بھی نہیں ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے مودی کو دعوت نامہ بھیجے جانے اور علیگڑھ میں اس کیلئے راہیں ہموار کرنے کی کوششوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب ملت نے دوسرے درجے کی شہریت کو تسلیم کر لیا ہے۔جو لوگ اس چاپلوسی میں لگے ہیں ان کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا مودی ملک کے وزیر اعظم نہیں ہیں؟ کوئی ان افلاطونوں سے پوچھے کہ ماضی میں کتنے وزرا اعظم کوجامعہ یا دوسری یونیورسٹیوں میں دعوت دی گئی ہے اور ہندوستان کی اور کون کون سی یونیورسٹیوں میں اس قاتل کی اس قدر تکریم و تعظیم کی گئی ہے جتنی یہ لوگ کرنے کیلئے بے تاب ہیں اورچند دنیاوی مفادات کی خاطر گراوٹ کے اندھیرے غار میں کودنے پر آمادہ ہیں۔ ایک ’’مفکر ملت‘‘ تو ایسی بے غیرتی کا مظاہرہ فرما چکے ہیں کہ وزیر تعلیم مس ایرانی کا موازنہ مولانا آزاد سے کر ڈالا ۔ تقریب کی جو سی ڈی یو ٹیوب پر اپلوڈ کی گئی ہے وہ ایڈٹ شدہ ہے مگر اس میں بھی گراوٹ سے بھر پور اس قصیدہ خوانی کا ایک آدھ جملہ صاف طور پر سنا جا سکتا ہے۔

ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہئے کہ نریندر مودی کے گجرات میں بار بار جیتنے اور جن ممالک میں گجراتی ہندو بھاری تعداد میں موجود ہیں وہاں پر ان کے شانداراستقبال کی اس کے علاوہ کوئی دوسری وجہ نہیں کہ ان لوگوں کے خیال میں ’’مودی نے گجرات میں مسلمانوں کو سبق سکھادیاہے‘‘۔ اس خوشامدانہ رویے سے ملت میں مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ اب اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ مودی نے گجرات ہی میں نہیں بلکہ مسلمانان ہند کو سبق سکھادیا ہے اور انہیں ان کی اوقات دکھا دی ہے۔ او ر اس رویے سے یہ لوگ اس بات کو یقینی بنا دیں گے کہ پانچ سال نہیں بلکہ مودی ، اگر اس کی صحت نے ساتھ دیا تو، 20 سال کیلئے وزیر اعظم رہے گا اور وہ نہیں تو امت شاہ اس کا جانشین ہو گا۔ ویسے دونوں میں فرق ہی کیا ہے جو لوگ مودی کے آگے سجدے کر رہے ہیں وہ امت شاہ کو بھی قبول کر لیں گے۔

یہودی آج تک ہٹلر کے مظالم نہیں بھول پائے اور ہٹلرکے جرائم کا معاوضہ پوری دنیا سے وصول کر رہے ہیں۔ سکھوں نے 1984 کے فسادات کو آج تک یاد رکھا ہوا ہے باوجود اس کے کہ بہت سے کنبوں کو معاوضہ بھی مل چکا ہے اور ان سکھ مخالف فسادات میں ملوث افراد کے سیاسی کیرےئر ہمیشہ کیلئے ختم کروا دئے۔مگر ہائے مسلمان! جبل پور، بھاگل پور، مراد آباد میرٹھ اور ایک لمبی فہرست کو بھول کرپہلے کانگریس کی ذلت آمیز غلامی کرتا رہا اور اب گجرات سے لے کر مظفرنگر تک ہر بات کو بھول کر بی جے پی کی غلامی کرنے کو بے تاب ہے۔

سوچئے کہ جب ملت کے سنجیدہ اور پڑھے لکھے افرادکاحال یہ ہے تو پانچ سال کے دوران گیرواکرن کا جو کام زعفرانی ٹولا کر چکے گا ہندو ووٹ کھو دینے کے ڈر سے کیا کوئی دوسری پارٹی اسے ختم کرنے کی جرت کرسکے گی؟ گجرات اور مظفر نگر میں جن پاک دامن خواتین کی عصمتیں داغدار کی گئیں اگر ان میں ان کے گھروں کی خواتین ہوتیں تو کیا ان کے یہ ہی جذبات ہوتے؟ جس قسم کے بیہودہ جواز اس گروہ کی جانب سے پیش کئے جا رہے ہیں اگر ملت اسلامیہ میں ایسی فکر پہلے کبھی رہی ہوتی تو حسین 94 سے لے کر ٹیپو سلطان تک مسلمانوں کی تاریخ میں ایک بھی کردار ایسا نہ ہوتا جس پر آج ہم فخر کر سکتے۔ شکست خوردہ یا مفاد پرست عناصر کے بارے میں تو کچھ زیادہ کہنے کی گنجائش ہی نہیں جنہیں نہ عزت نفس کا پاس ہے نہ آخرت میں اﷲ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کا خوف۔ حالانکہ مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے درمیان سیاسی تعاون کی بات پہلے بھی بار بار اٹھ چکی ہے مگر ایسا تعاون جتنا ضروری آج ہے اتنا شاید پہلے کبھی نہ رہا ہو۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی قابل بھروسہ اور ایسی قیادت کا شدید فقدان ہے جس پر سب کا بھروسہ اور اعتماد ہواور یہی حال ملک کے دلتوں کا ہے۔ اگر کچھ لوگ واقعی قوم کے تئیں مخلص ہیں تو انہیں اپنی ذاتی انا، مفادات اور اختلافات کو بھلا کر ان خطوط پر سنجیدگی سے کام کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: