ضمیر فروشی کا انعام

محمد غزالی خان

بابری مسجد کی شہادت کو تین یا چار سال ہو چکے تھے اورہر سال کی طرح لندن کی انڈین مسلم فیڈریشن نے ایک احتجاجی جلسے کے اہتمام کا اعلان کیا تھا۔ لندن کے ایک عالم دین مولانا عیسیٰ منصوری نے منتظمین سے فون پر ظفر سریش والا کو دعوت دینے کی درخواست کی۔ مولانا نے بتایا کہ بمبئی سے تعلق رکھنے والے ظفر صاحب ایک بڑے zafar_sareshwala_narendra_modiکاروباری شخص ہیں اور ملی معاملات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔

اس سے پہلے ظفر سریش ولا کا نام برطانیہ کے مسلم تنظیمی حلقوں میں کسی نے نہیں سنا تھا۔ تاہم مولانا کی درخواست پر ظفر سریش والا سے فون پر رابطہ کیا گیا اور جلسے میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ عزت افزائی کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے جو جواب منتظمین کو فون پر ملا وہ یہ تھا کہ ’’ہم تو بابری مسجد کو بھول چکے ہیں ۔ آپ بھی بھول جائیں۔ ہم نے اس سلسلے میں مولانا علی میاں صاحب سے بھی بات کی ہے اور وہ ہماری بات سے متفق ہیں‘‘۔

بہر حال ظفر سریش والا نے جلسے میں شرکت کی اور تقریربھی کی مگر شاید ماحول کی سنجیدگی اور شرکاء کے تاثرات کے پیش نظراس موقع پر انھوں نے بابری مسجد کو بھول جانے کا مشورہ نہیں دیا۔

ظفر سریش والا تبلیغی جماعت سے وابستہ رہ چکے ہیں اور ذاتی زندگی میں اچھے خاصے دین دار ہیں۔ تاہم کسی موقع کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرنے میں انہیں کوئی تردّد نہیں ہوتا۔ معروف عالم دین مولانا علی میاں کے انتقال کے بعد انھوں نے ڈیوزبری، جہاں پر مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہونے کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کا بڑا مرکز بھی ہے، میں ایک تعزیتی جلسے کا اہتمام کیا۔ اس میں مولانا تقی عثمانی صاحب سمیت ہندوستان اور پاکستان سے جَیّد علما کو بلایا گیا تھا۔ ایک دوست ، جنہوں نے تعزیتی جلسے میں شرکت کی تھی اُ نھوں نے بعد میں بتایا کہ یہ تعزیتی جلسے کے بجائے سریش والا کی شخصی رابطہ عامہ کی تقریب معلوم ہوتی تھی۔

تعزیتی جلسے کے چند دن بعد ظفر سریش والا کی کمپنی پارسولی کارپوریشن کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جس میں انویسٹمنٹ پر نامو ر علماء کے فتووں اور پیغامات کی کتابی شکل میں اشاعت شامل تھی ۔ پارسولی کارپوریشن نے آئندہ سالوں میں جو بدنامی کمائی اس کی خبریں اس وقت ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر آئی تھیں اور انٹر نیٹ پر اُن کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔

اس واقعہ کے چند سال بعد 2001 میں دہلی میں ہندوتوا ایجنٹوں کے ہاتھوں قرآن پاک کے ایک نصخے کو نظر آتش کئے جانے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیااور ہندوستان میں مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ کچھ اخبارات نے یہ خبر شائع کی کہ احتجاج کی ترغیب برطانیہ میں ہندی مسلمانوں نے دی تھی جس کے بعد دہلی کے ایک ہفتہ وار نے انکشاف کیا کہ برطانیہ میں وہ ہندی مسلمان ظفر سریش والا صاحب تھے۔ چند روز بعد ظفر سریش والا سے میری ملاقات مسلم کونسل آف برٹین کی ایک تقریب میں ہوئی جس میں انھوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دہلی میں کچھ علماء سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تھا۔ مجھے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس وقت میں ظفر سریش والا کی دینی حمیت اور جذبہ سے بہت متاثر ہوا تھا۔

اس واقعہ کے بعد انڈین مسلم فیڈریشن نے اگلے جمعہ کو یوم دعا کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا اور روزنامہ جنگ میں ایک چھوٹے سے اشتہار کے ذریعہ مسلمانان برطانیہ سے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے خصوصی دعا کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اشہار کی رقم ، جو غالباً 150 پونڈ تھی، ظفر سریش والا ہی نے ادا کی تھی۔

تیسری مرتبہ ظفر سریش والا کا نام گجرات نسل کشی 2002 کے بعد زورو شور سے سننے میں آیا۔ دنیا میں دوسری جگہوں کی طرح برطانیہ میں بھی ان مسلم کش فسادات نے ہر اس شخص کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس میں انسانیت کی تھوڑی بہت بھی رمق باقی تھی۔ شمالی لندن کے علاقے ہیکنی، جہاں پر گجراتی مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے، کی ایک تنظیم ، نارتھ لندن مسلم کمیونٹی سینٹر، نے برطانیہ بھر کے مختلف شہروں سے ہندوستانی نژاد مسلم مندوبین پر مشتمل ایک ہنگامی میٹنگ بلائی۔ میٹنگ نے فوری طور پر کونسل آف انڈین مسلمز کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیاجس کا مقصد ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرنا طے پایا۔ کونسل آف انڈین مسلمز نے رائے عامہ کو بیدار کرنے اور مسلمانان ہند کے حق میں استوار کرنے کا کا م ہنگامی بنیادوں پر شروع کردیا اور دو تین ہفتہ بعد مزید ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میٹنگ میں برطانیہ بھر کی ہندوستانی مسلم تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء سے جن لوگوں نے خطاب کیا ان میں ایک نام ظفر سریش والا کاتھا۔

ظفر سریش والا نے ایک جذباتی اور درانگیز تقریر کی جس میں اُنھوں نے سابق کانگریسی رکن پارلیمنٹ احسان جعفری مرحوم کو اپنا رشتہ دار بتاتے ہوئے اُن مظالم کی تفصیلات بیان کیں جو قتل کئے جانے سے پہلے بلوائیوں نے مرحوم پر ڈھائے تھے۔ سریش والا نے بتایا کہ ’’جعفری صاحب نے بہت سے کانگریسی سیاست دانوں کو فون کیا مگر سب نے بے بسی کا اظہار کر کے معذرت کرلی تھی۔ تب جعفری صاحب نے نریندر مودی کو کئی فون کئے جس کے جواب میں انہیں فحش گالیاں سننی پڑیں۔ بالآخر وہ گھر سے باہر نکل آئے اور بلوائیوں سے درخواست کی کہ میری جان لے لو مگر میرے گھر میں جن لوگوں نے پناہ لی ہوئی ہے انہیں معاف کردو۔ مگر بلوائیوں نے انہیں برہنہ کر کے سڑک پر چلایا اور رام رام کہنے پر مجبور کیا ۔ انکار کرنے پر ان کی انگلیاں کاٹ دی گئیں مگر انھوں نے پھر بھی رام رام نہ کہا اور اس طرح ان کے جسم کے دوسرے اعضاء کاٹے گئے اورپھر زندہ حالت میں انہیں آگ میں پھینک دیا گیا۔‘‘

اس کے بعد ظفر سریش والا نے لندن کی کئی اور تنظیموں کی میٹنگوں میں بھی تقریریں کیں جو مودی کے د ل دہلانے والے جرائم کے خلاف مہم میں شامل تھیں تاہم وہ کسی تنظیم کے رکن نہیں بنے۔ ظفر سریش والا اُن لوگوں میں سے نہیں ہیں جو تشہیر اور نام و نمود کے بغیر خدمت خلق کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کا نام بار بار اخبارات میں آ رہا تھا۔ لہٰذاس کا اثر ا حمدآباد میں ان کے والدین اور کنبے کے لوگوں پر پڑنا لازمی تھا۔

ظفر سریش والا کی اس بات کے لئے بہر حال تعریف کرنی پڑے گی کہ کونسل آف انڈین مسلم کے رکن نہ ہونے کے باوجود انھوں نے اگست 2003 میں مودی کی لندن آمد سے پہلے کونسل کے چےئر مین مُناف زِینا کو فون کر کے اپنی پریشانی کے بارے میں بتایا اور مودی سے ملنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مناف زینا نے سریش والا کی بات سُن کر ان سے ہمدردی کی اور کہا کہ اگر مودی سے ملاقات کر کے ان کے گھر والوں کی پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں تو انہیں ان کی ملاقات پر کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ یہ ملاقات ذاتی ہو اور کسی کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ نہ کیا جائے۔

مگر ظفر سریش والا ایک کامیاب اور موقع شناس تاجر ہیں جن کی ذاتی نمود اور تشہیر ہر بات پر مقدم ہوتی ہے۔ وہ اپنا ایجنڈا اور منصوبہ پہلے ہی تیار کر چکے تھے۔ مودی سے ملنے کے لئے انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی طلحہ سریش والا کو بلوا لیا تھا اور کمال چالاکی سے مولانا عیسیٰ منصوری کو اپنے ساتھ جانے پر آمادہ کر لیا تھا جو اس وقت تک ظفر سریش والا کے لئے پیرو مرشد کی حیثیت رکھتے تھے۔ سریش والا نے ملاقات سے متعلق اخباری بیان جاری کردیا تھا جس کی خبر ہندوستانی اخبارات میں اس وقت پڑے پیمانے پر آئی تھی۔ مثال کے طور پر ہندوستان ٹائمز نے سرخی جمائی تھی “Muslim leaders welcome Narendra Modi in London, “

جو لوگ مودی کی فسطائیت کا براہ راست نشانہ بن چکے تھے ان کا ردّ عمل فطری طور پر نہایت شدید تھا۔ مثلاً احسان جعفری مرحوم کے بیٹے زبیر جعفری نے ای میل کر کے سریش والا سے کہا ’’ محض اس وجہ سے کہ گجرات فسادات کے دوران تمھاری اپنی بہنوں اور بیویوں کی آبرو ریزی نہیں ہوئی تھی تم نے گجرات کے قصائی سے ملاقات کی ہے جس کے بارے میں سب کو علم ہے کہ وہ مسلمانوں کے قتل عام اور (مسلم خواتین) کی آبروریزی کیلئے براہ راست ذمہ دار ہے۔۔۔ اس کے سیاہ کرتوتوں کا جواز پیدا کرنے سے گجرات میں تمہاری تجارت کو تو فائدہ ہو سکتا ہے مگر گجرات کے مظلومین کے ساتھ یہ غداری ہے۔ الحمدللہ گجرات اور برطانیہ کے مسلمانوں نے تمہارا اصلی چہرہ دیکھ لیا ہے اور اب انہیں تمہاری اصلیت کا علم ہو چکا ہے‘‘ (Milli Gazette, 23 August 2002)

ظفر سریش والا کا کہنا ہے کہ لندن میں مودی کے ساتھ ان کی ملاقات دوستانہ اور کھلے ماحول میں ہوئی جس میں ، بقول ان کے، مودی نے گجرات کے فسادات پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ترکی روزنامہ ٹوڈیززماں کو دیئے گئے انٹر ویو میں انہوں نے کہا ’’میرا مودی مخالف موقف تبدیل ہو چکا ہے جو اُن کے ساتھ رابطہ کی عد م موجودگی سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا نتیجہ تھا۔‘‘ (Today’s Zaman, 30 November 2014)

تاہم مولانا عیسیٰ منصوری اس موقف کی پر زور انداز میں تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں مودی نے کسی طرح کا کوئی افسوس ظاہر نہیں کیا تھا اور ہم اپنی کہتے رہے وہ اپنی کہتا رہا۔ (twocircles.net, 22 November 2012)

انہوں نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ یہ مودی کا ہی اصرار تھا جس کی وجہ سے وہ برطانیہ سے ہندوستا ن واپس چلے گئے ۔ مودی نے ان سے کہا تھا کہ ’’کیا وہاں انگریزوں کی غلامی کرتے رہو گے؟ ‘‘ (Times of India 24 November 2013)

بہر حال ان تعلقات سے ظفر سریش والا کو ذبردست فائدہ ہوا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ’’انڈسٹریل والو بنانے کی ان کی فیکٹری بھی نذر آتش کردی گئی تھی اور جو خاندان کبھی سب سے زیادہ زکوٰ ۃ دیا کرتا تھا مالی طور پر اس کی حالت خستہ ہوگئی تھی۔ ‘‘ آئی بی این کو دیئے گئے ایک اور انٹرویو میں ظفر سریش والا نے کہاکہ وہ مالی طور پر’’ بالکل تباہ ہو چکے تھے اور تقریباً خود زکوٰ ۃ لینے کی سی حالت میں پہنچ گئے تھے۔‘‘

البتہ مودی کی خدمت گزاری میں آنے کے بعد ظفر سریش والا نہ یہ کہ پہلے سے زیادہ دولت مند بن گئے ہیں بلکہ گجرات بھر کے مالدار ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔ اور اب تو انہیں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی چانسلر شپ سے نوازے جانے کے بعد ان کے مقام میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا عہدہ اور اتنا بڑا انعام تھا جو ان کے اپنے بقول ان کے ذہن و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا اور جس کا اعلان مودی سرکار نے ان کو بغیر بتائے ہی کر دیا تھا یہاں تک کہ جب جدہ کے عرب نیوز نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں۔

اس عہدے کیلئے ظفر سریش والا کی اہلیت کیا ہے ؟ نریندر مودی کی خوشنودی اور قربت حاصل ہونے کے علاوہ ان کے بقول ’’میرا خاندان لمبے عرصے سے گجرات میں اردو کی بہت بڑی خدمت انجام دیتا چلا آ رہا ہے۔ 1972 میں جب گجرات میں اردو حالت نزع میں تھی تو میرے مرحوم والد اور ماموں نے احمد آباد میں اردو کے فروغ کیلئے ایک بورڈقائم کیا تھا۔۔۔۔ اردو ہمارے خون میں شامل ہے۔ ہم شمع رسالہ اور گھر کی خواتین رضوان اور بانو پڑھتے ہوئے پلے بڑھے ہیں۔‘‘ (Arab News, 13 January 2015)

ماشااﷲ! ان صلاحیتوں کے سامنے ملت کے ان گمنام سپاہیوں کے بارے میں کیا کہا جائے جنہوں نے اردو کے فروغ اور ملت میں علم کے نور کو پھیلانے کیلئے زندگیاں وقف کردیں اور ان ہونہار نوجوانوں کی حالت زار پر کیا تبصر ہ کیا جائے جو مالی مشکلات اور بے روزگاری میں مبتلا سڑکوں پر خاک چھانتے گھوم رہے ہیں۔ اسی انٹر ویو میں ظفر سریش والا صاحب نے بتایا کہ ’’مودی بہت بڑے محب اردو ہیں‘‘۔

جب سے ظفر سریش والا کو مودی کی قربت حاصل ہوئی ہے ان پر مودی کے نئے نئے اوصاف کھل رہے ہیں۔ حال ہی میں جے پور میں مسلم نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ظفر سریش والا نے انہیں یقین دلایا ’’میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس دور حکومت میں تمہیں کسی امتیاز کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ مودی حکومت نے اپنے آپ کو مساوی مواقع کی فراہمی کا پابند کیا ہوا ہے۔‘‘ (Times of India, 18 January 2015)

مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنے کے مودی کے وعدوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ظفر سریش والا نے کہا ’’جو کچھ مودی سوچ رہے ہیں اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ ہم تو اس کے بارے میں بہت پہلے سے جانتے ہیں اور اب دنیا پر یہ حقیقت کھل رہی ہے‘‘ (dailymail.co.uk, 23 September 2014)

13 ستمبر 2013 کو آئی بی این کے ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں سریش والا لکھتے ہیں ’’حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ مودی کے بہت گہرے روابط ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کی مضبوط ٹیمیں تیار کی ہیں جو ان کے ساتھ نزدیکی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ یہ لوگ تعلیم یافتہ ہیں اور مسلمانوں میں ان کی بڑی عزت ہے۔ کوئی انہیں بکاؤ مال نہیں سمجھتا۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو ذاتی احسانات لیتے ہیں اور درباری بن جاتے ہیں۔ اس کے بر عکس کانگریس پارٹی میں قابل اعتماد مسلمانوں کا مکمل صفایا ہے۔ صرف گجرات میں ہی نہیں بلکہ ہندوستا ن بھر میں۔‘‘

واقعی ظفر سریش والا صاحب؟ اگر چند ذاتی مفادات کی خاطر اپنی عزت نفس فروخت کرنا، ناانصافیوں پر آنکھیں بند کرلینا اور سچ بات کہنے کی جراٗت نہ کر سکنا بکاؤ ہونا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے ان انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف کب آواز اٹھائی تھی جو ملک بھر میں زہر افشانی کرتے پھر رہے ہیں اور جنہوں نے پورے ماحول کو آلودہ کر رکھا ہے؟ آپ نے کب ان معاملات کی طرف مودی کی توجہ دلائی تھی اور اس سلسلے میں انھوں نے کیا کیا ہے؟ آپ کا محبوب قائد نہ یہ کہ اپنی جماعت کے ارکان اور ممبران پارلیمنٹ کے جرائم اور اشتعال انگیزیوں پر معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے، اس نے مظفر نگر کے فسادیوں کو عزت و تکریم سے نوازا ہے۔ تاریخ پر زعفرانی رنگ چڑھانا، اشتعال انگیزی، زہر افشانی، فسادات کروانے سمیت جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر آپ کے محبوب قائد نے ہونٹوں پر تالا ڈال لیا ہے۔ مظفر نگر کے فسادات میں ملوث اپنی جماعت کے ارکان کو وہ سزا تو کیا دیتا مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے اس نے ایک ملزم کو اے ایم یو کورٹ کا رکن نامزد کر دیا ہے۔ مسئلہ فلسطین پر ہندوستان کے پرانے اور اُصولی موقف کے بر خلاف اس نے صیہونی ریاست سے دوستی کی ہے جس کی بنیاد مسلمانوں کے خلاف اس کے بغض اور دشمنی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔

بہر حال ان تمام واقعات میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ ان باتوں کا خطرہ تو انتخابات میں مودی کی فتح سے بہت پہلے محسوس ہوچکا تھا۔ جہاں تک ظفر سریش والا کا تعلق ہے غلام محمد وستانوی، شاہد صدیقی، سلمان خان، آدم پٹیل اور مودی کے ساتھ ہونے والی ہر مسلمان کی ملاقات یا ان کے ذریعے اس کی حمایت کے پیچھے سریش والا کا نام ظاہر ہوا ہے۔ اندرون ملک اپنے آقا کی خدمت انجام دینے کے بعد اب شاید انہیں مسلم ممالک میں مودی کیلئے رابطے اور دوستانہ فضابنانے کا کام سونپا گیا ہے۔ ترکی اور سعودی عرب کے روزناموں میں شائع ہوئے انٹرویوز غالباً اس سلسلے کی پہلی کڑی ہیں ۔ اورنام کے ساتھ ایک یونیورسٹی کی چانسلرشپ کے لگ جانے سے سریش والا کا نام زیادہ با عزت لگے گا۔

افسوس کا مقام ہے کہ ایک طرف جب فسادات، قتل وغارتگری ، آبرو ریزی ، آتش زنی اور ہر طرح کے جرائم میں ملوث عناصر کو الزامات سے بری کیا جا رہا ہے اور کلین چٹیں جاری کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف جہاد کرنے والی خاتون ٹیشٹا سیٹل واڈ، جاوید آنند کے ساتھ ساتھ احسان جعفری کے صاحب زادے تنویر جعفری کو مالی خرد برد جیسے سنگین جرم میں ملوث کر لیا گیا ہے اور جن لوگوں کے حقوق کیلئے یہ لوگ لڑ رہے تھے انہیں ڈرا دھمکا کر اور لالچ دے کر ان کے خلاف گواہی دینے یر آمادہ کر لیا گیا ہے۔

جہاں تک ظفر سریش والا کا تعلق ہے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’لگے رہو سریش والا بھائی‘‘ ہو سکتا ہے کہ نائب صدر جمہوریہ ہند کا عہدہ آپ کا منتطر ہو۔ مگر میں جانتا ہوں کہ آپ بے دین شخص نہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ اﷲ ربّ العزت ہم سب کے دلوں کے راز سے واقف ہے۔ اس کے دربار میں کس کا کیا فیصلہ ہونا ہے وہی جانتا ہے مگر اس دنیا میں بھی جلد یا بدیر ظلم اور ظالم بہر حال ختم ہو کر رہتے ہیں اور قوم میر جعفروں، میر صادقوں، چھاگلاؤں اور دلوائیوں کو ہمیشہ حقارت اور نفرت کے ساتھ یاد کرتی ہے ۔ ان کیلئے دعائے مغفرت کے بجائے نسل در نسل ان کے نام پر تھو تھو کرتی ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: